بے چارے عوام

جناب شہباز شریف وزیرِ اعظم ہیں، وہ اچھے اور محنتی مینیجر سمجھے جاتے ہیں اور انھیں مقتدر حلقوں کی تائید بھی حاصل ہے۔


عبد الحمید August 07, 2026
[email protected]

جناب شہباز شریف وزیرِ اعظم ہیں، وہ اچھے اور محنتی مینیجر سمجھے جاتے ہیں اور انھیں مقتدر حلقوں کی تائید بھی حاصل ہے۔ مسلم لیگ کا سارا ووٹ بینک جناب نواز شریف کے نام سے ہے۔ شہباز شریف کو اپنے بھائی میاں نواز شریف کی حمایت حاصل ہے، نواز شریف کا حکومت کا تجربہ بھی بہت ہے۔ وہ تین بار وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔پہلی بار جب وہ حکومت میں آئے تو ان کے تجویز کردہ معاشی اقدامات بہترین تجاویز قرار دی جاتی ہیں اور ملک کو انقلابی طور پر ماڈرن ترقی یافتہ بنانے کی طرف لے جا سکتے تھے لیکن اڑان بھرنے سے پہلے ہی ان کی حکومت کو چلتا کیا گیا۔

سارے انتخابات میں نواز شریف نے مسلم لیگ ن کی قیادت کی، ثابت کیا کہ ان کا ذاتی لیڈر شپ ووٹ بینک ہے اور وہ عوام کے ایک بڑے حصے کےIn his own rightقائد ہیں۔جناب شہباز شریف،اپنے بھائی کی سیاسی مقبولیت سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی اٹھا رہے ہیں۔ پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کے طور پر کام کرتے ہوئے وہ ایک اچھے مینیجر کے طور پرسامنے آئے ۔ان کو ووٹ بینک بنانے کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ ووٹ بینک مسلم لیگ اور میاں نواز شریف کا تھا، وہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کے حکمران رہے۔

 پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ میں سے مسلم لیگ ق بنائی گئی تاکہ نواز شریف کو سیاسی طور پر کمزور کردیا جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔چند سروے بھی کرائے گئے کہ مسلم لیگ کی قیادت نواز شریف سے لے کر کسی اور کی جھولی میں ڈال دی جائے تو کیا وہ مسلم لیگ کو مقبول بنا لے گا لیکن سروے یہی بتاتے رہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

میری اطلاع کے مطابق کم از کم تین دفعہ یہ ایکسرسائز کی گئی لیکن ہر مرتبہ یہی کھلا کہ ن لیگ میں نواز شریف کے مقابلے میں کوئی اور ان جیسی مقبولیت و قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جناب شاہد خاقان عباسی کو وزیرِ اعظم بنایا گیا لیکن وہ وہیں کے وہیں رہے۔اب جناب شہباز شریف وزیراعظم ہیں اور انھیں یہ ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے کہ انھیں قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف کی سپورٹ بھی ہے ۔آج بھی مسلم لیگ ن کا ورکر نواز شریف کے نام پر نکلتا اور ووٹ دیتا ہے۔موجودہ حالات میں جناب شہباز شریف ، اگر وزیرِ اعظم ہیں اور محترمہ مریم نواز وزیرِ اعلیٰ ہیں تو اس کی وجہ میاں نواز شریف ہیں۔

جناب شہباز شریف بانی پی ٹی آئی کی جگہ وزیرِ اعظم بنے ہیں۔سب کو معلوم ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت گر چکی تھی لیکن ان کی حکومت ختم ہوتے  ہی ہمدردی کی ایسی لہر اٹھی جس نے سب کو حیران کر دیا۔ بہرحال موجودہ حکومت عوام کو ریلیف مہیا کرنے کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں ۔صدر ہاؤس،وزیرِ اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کے غیر ضروری اخراجات میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ججز اور پارلیمنٹ ممبران کی تنخواہوں کو آئے دن بڑھایا جا رہا ہے جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے حکومت الرجک ہے۔ مہنگائی کا گراف بڑھ رہا ہے۔ ملک معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت ریکارڈ قرضے لے رہی ہے حالانکہ قومی سطح پر کفایت شعاری کی شدید ضرورت ہے اور کفایت شعاری خود چیف ایگزیکٹو،کابینہ ممبران،اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور پارلیمنٹ ممبران سے شروع ہونی چاہیے۔

امریکا،اسرائیل نے ایران پر جو جنگ مسلط کی ہے اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی شدید مشکلات میں پڑ گئی۔ پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا لیکن اتنا نہیں ہوا جتنا بتایا جارہا ہے۔ حکمران طبقہ ٹیکس دینے سے راہِ فرار اختیار کر لیتا ہے ،لیکن عام آدمی کہاں جائے۔جس وقت آبنائے ہرمز سے کوئی تیل بردار ٹینکر جہاز نہیں گزر سکتا تھا اس وقت بھی پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکروں کو وہاں سے گزرنے اور تیل پاکستان لانے کی آسانی حاصل تھی۔امریکا اور ایران دونوں متحارب قوتیں پاکستان کو راستہ دے رہی تھیں۔سعودی عرب بھی تیل کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے لیکن حکومتِ وقت آبنائے ہرمز کی بندش کو بہانہ بنا کر بجٹ کے سارے خسارے تیل قیمتوں سے پورا کر رہی ہے۔ پہلے پندرہ دن،پھر ہفتہ وار اور اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین ہو رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین اس لیے ہوتا ہے تاکہ عوام کو خبر اور احساس ہی نہ ہو سکے۔جب حکومت کے پاس دو ہفتے سے زیادہ کا تیل اسٹاک میں ہوتا ہے تو قیمتوں کا روزانہ تعین بہت زیادتی ہے۔

 بجلی سے چلنے والی سکوٹی کی پاکستان میں قیمت دو لاکھ پچھتر ہزار روپے یا اس کے آس پاس ہے۔چین میں اس کی قیمت پچیس ہزار سے ستائیس ہزار ہے۔اتنا ہی خرچہ وہاں سے ٹرانسپورٹ کرنے میں آتا ہے لیکن ایک سکوٹی پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ عوام کو سستی اورکلین انرجی والی ٹرانسپورٹ بہم پہنچانے کے بجائے مہنگی سکوٹی لینا پڑ رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں اس ٹیکس کے نہ ہونے کی وجہ سے 90فیصد سے زیادہ لوگوں کے پاس الیکٹرک سکوٹیاں ہیں۔

پچھلے دو سالوں میں مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کا بہت چرچا رہا۔امید تھی کہ حکومت اس مسئلے کا کوئی حل نکالے گی ۔ آئی پی پیز بغیر بجلی بنائے Capacity chargesکی مد میں کئی ہزار ارب روپے ہر سال لے رہے ہیں لیکن معاملہ جوں کا توں ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی بے شمار شرائط مان لی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان تباہ ہو چکا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اپنے حال میں مست ہیں۔