نظام کی دہائی

لوگوں کو قائد اعظم کی دیانت، صداقت، اصولوں اور سیاسی نظریات و جمہوری جدوجہد پر کامل یقین تھا


ایم جے گوہر August 07, 2026

پاکستان قائد اعظم کی قیادت میں جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا، ان پر آنکھ بند کرکے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور آزاد وطن کے حصول کے لیے ان کے کارواں میں شامل ہو گئے۔

لوگوں کو قائد اعظم کی دیانت، صداقت، اصولوں اور سیاسی نظریات و جمہوری جدوجہد پر کامل یقین تھا۔ قائد اعظم نے بھی عوام کے اعتماد و یقین کو ذرہ برابر ٹھیس نہیں پہنچائی اور انگریز سرکار کے ساتھ بات چیت میں ثابت کر دیا کہ ہندو اور مسلمان برصغیر کی دو ایسی قومیں ہیں جو مذہبی، معاشرتی، سماجی حوالے سے ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، لہٰذا برصغیر کی تقسیم اور مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ خطہ زمین آزاد وطن کا قیام ازبس ضروری ہے جہاں وہ اپنے دین اسلام کے مطابق آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔

23 مارچ 1940 میں لاہور کے تاریخی مقام پر قائد اعظم کی صدارت میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ برصغیر کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں ایک آزاد وطن قائم کیا جائے۔ سات سال کی مختصر جدوجہد کے بعد قائد اعظم کی قیادت میں 14 اگست 1947 کو پاکستان قائم ہو گیا۔

امور مملکت چلانے کے لیے آئین بنیادی دستاویز ہوتی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے رہنماؤں نے دستور ساز اسمبلی سے 26 نومبر 1949 کو آئین منظور کروا لیا اور 26 جنوری 1950 کو پہلا باضابطہ آئین بھارت میں نافذ ہو گیا۔ 2 سال 11 ماہ اور 18 دن کے مباحثے کے بعد بننے والے بھارتی آئین میں اگرچہ بعض ترامیم بھی کی گئیں لیکن آج تک بھارت اسی ایک آئین کے تحت امور سلطنت چلا رہا ہے۔ وہاں ہر ادارہ آئین میں درج دائرہ کار کے مطابق اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا ہے۔ جب کہ پاکستان میں 9 سال تک آئین کا کوئی وجود نہ تھا۔ پاکستان میں پہلا آئین 23 مارچ 1956 کو نافذ ہوا، لیکن افسوس کہ 17 سال بعد ہی 1958 جنرل ایوب خان نے آئین کو معطل کرکے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

چار سال بعد 1962 میں اپنی صوابدید کے مطابق جنرل ایوب خان نے دوسرا آئین نافذ کرکے ملک میں صدارتی نظام حکومت قائم کر دیا۔ شدید عوامی احتجاج اور سیاسی دباؤ کے باعث جنرل ایوب نے 25 مارچ 1969 کو استعفیٰ دے کر اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جن کی قیادت میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں قائد اعظم کا پاکستان دولخت ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔

انھوں نے نہ صرف پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ ملک کو تیسرا ایسا متفقہ آئین دیا جو تمام تر جمہوری ہچکولوں کے باوجود آج بھی قائم ہے اور امور مملکت چلانے کی سب سے مستند دستاویز ہے۔ 1973 کے آئین میں متعدد ترامیم کی جا چکی ہیں لیکن تمام سیاسی قائدین اور جماعتیں آج بھی اسی آئین کی محافظ اور اس کی پاسداری کی پابند ہیں۔

 بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی بدقسمتی یہ کہ ریاستی اداروں نے جن میں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے سب شامل ہیں، آئین پر کماحقہ اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔ کبھی مارشل لا، کبھی صدارتی نظام، کبھی بنیادی جمہوریت کا نظام، کبھی جمہوریت کا پارلیمانی نظام، کبھی غیر جماعتی سیاسی نظام، کبھی ہائبرڈ نظام غرض نصف درجن سے زائد نظام مختلف ناموں سے آزمائے جا چکے ہیں لیکن آج 70 سال گزرنے کے بعد بھی ہم کسی نظام کو بھی کامیابی سے چلانے میں امیدوں پر پورے نہیں اترے اور آج پھر نظام کی تباہی کی دہائی دے رہے ہیں۔

جیساکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تاجروں، صنعتکاروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا ہے لہٰذا نئے انتظامی یونٹ یا صوبے اب ناگزیر ہیں۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ جب تک سیاست دان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے ، محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گویا دبے لفظوں میں وہ خبردار کر رہے ہیں کہ حکمرانوں نے اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا تو پھر ملک میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت کی بساط لپیٹی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ خود اسی نظام کی پیداوار اور حکومت کا حصہ ہیں۔

وہ (ن) لیگی حکومت پر طنز کر رہے ہیں کہ نوجوانوں کو دو چار ہزار روپے اور لیپ ٹاپ دے کر خاموش نہیں کیا جا سکتا اگر یہ ’’نوجوان کاکروچ‘‘ اکٹھے ہو گئے تو سب کچھ الٹ دیں گے۔ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر نئے صوبے اور انتظامی یونٹ کی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سندھ اور پنجاب میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کی تشکیل کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سب سے زیادہ تحفظات ہیں۔ آئین میں درج طریقہ کار سے ہٹ کر کوئی عمل ممکن نہیں ہوگا۔

نظام کی ناکامی کی اصل وجہ ہی آئین سے انحراف ہے، وہ مائنڈ سیٹ نظام کی ناکامی کا ذمے دار ہے جس کی نیت میں فتور ہے۔ آپ دس صوبے اور انتظامی یونٹ بنا لیں جب تک مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوگا آئین و قانون پر عمل درآمد نہیں ہوگا، کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگست کا مہینہ شروع ہو چکا ہے پوری قوم جشن آزادی منانے کی تیاری کر رہی ہے۔ آئیے! قائد اعظم کے سیاسی اصولوں و نظریات پر عمل پیرا ہونے کا عہد کریں، پھر کسی نظام کی ناکامی کی دہائی نہیں دینا پڑے گی۔