پنجاب میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی شہری تحفظ اور جانوروں کے حقوق کیلئے سنجیدہ چیلنج

ایک جانب کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا تودوسری طرف آوارہ کتوں کوغیرانسانی طریقوں سے مارے جانے کی اطلاعات ہیں

فوٹو: آصف محمود

لاہور:

پنجاب میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی شہری تحفظ اور جانوروں کے حقوق دونوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے جہاں ایک جانب کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف مختلف علاقوں سے آوارہ کتوں کو غیر انسانی طریقوں سے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

حال ہی میں سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کے علاقے عمرکے کلاں میں چار بچوں کے والد یاسر خان مبینہ طور پر کتے کے کاٹنے کے بعد جاں بحق ہو گئے، یہ واقعہ کوئی واحد مثال نہیں ہے بلکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے، شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کے باعث عوام میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

لاہور کے علاقے گڑھی شاہو کی رہائشی فرح شہزاد کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں آوارہ کتے غول کی صورت میں گھومتے ہیں، جس کے باعث نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کو بھی گھر سے باہر نکلنے میں خطرہ محسوس ہوتا ہے، کینال روڈ پر واقع ایک نجی سوسائٹی کی رہائشی آصفہ خان کے مطابق آوارہ کتوں کو مارنا مسئلے کا حل نہیں، حکومت کو ان کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود مختلف علاقوں میں زہر دینے یا فائرنگ کے ذریعے کتوں کو ہلاک کرنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ طریقے نہ صرف غیر قانونی بلکہ سائنسی طور پر بھی ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن عائزہ حیدر کے مطابق ٹریپ، نیوٹر، ویکسینیٹ اور ریلیز (ٹی این وی آر) پالیسی کا مقصد یہی تھا کہ شہریوں کو کتوں کے کاٹنے اور ریبیز سے محفوظ رکھا جا سکے، ان کے بقول اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور پرانے، غیر انسانی طریقے دوبارہ اختیار کیے جا رہے ہیں حالانکہ یہ طریقے گزشتہ کئی دہائیوں سے ناکام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے ٹی این وی آر پر عمل کرے، کتوں کی نس بندی اور ویکسی نیشن کو یقینی بنائے تو صورت حال میں بہتری آ سکتی ہے۔

حکومت پنجاب نے 2022 میں آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے ٹی این وی آر پالیسی کی منظوری دی تھی، اس پالیسی کے تحت لوکل گورنمنٹ کے عملے کو آوارہ کتوں کو پکڑ کر لائیو اسٹاک کے ویٹرنری مراکز تک منتقل کرنا تھا، جہاں ان کی نس بندی اور ویکسی نیشن کے بعد انہیں دوبارہ چھوڑ دیا جانا تھا تاہم عملی طور پر یہ پالیسی صوبے کے بیشتر علاقوں میں نافذ نہیں ہو سکی۔

پنجاب لائیو اسٹاک لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ویٹرنری اسپتال برکی میں تعینات ڈاکٹر طلحہ یزدانی کے مطابق ان کے مرکز میں گزشتہ چند ماہ کے دوران 300 کتوں کی نس بندی اور 250 کتوں کی ویکسی نیشن کی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ سے آوارہ کتوں کو پکڑ کر لانا لوکل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے عملے کو تربیت بھی دی گئی، تاہم عملی طور پر یہ کام مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ کتے جال دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر طلحہ یزدانی کے مطابق آوارہ کتوں کو قابو میں لانے کے لیے ڈارٹ گن کے استعمال کی اجازت دی جانی چاہیے، جیسا کہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ جنگلی جانوروں کو بے ہوش کرنے کے لیے کرتا ہے۔

ڈاکٹر طلحہ یزدانی کا کہنا تھا کہ شہری آبادی کے پھیلاؤ کے ساتھ کتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، ایک نر کتا ایک سیزن میں متعدد مادہ کتوں کو کراس کرتا ہے، اس لیے اگر مادہ کتوں کے بجائے نر کتوں کی نس بندی پر توجہ دی جائے تو یہ نسبتاً آسان اور کم خرچ طریقہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری سے 2030 تک ریبیز فری ملک بننے کا وعدہ کر رکھا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آوارہ کتوں کی ویکسی نیشن مہم ناگزیر ہے۔

ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ فوری جذباتی ردعمل کے بجائے سائنسی، انسانی اور پالیسی پر مبنی اقدامات کا متقاضی ہے تاکہ عوامی تحفظ اور جانوروں کے حقوق دونوں کو یکساں طور پر یقینی بنایا جا سکے۔

Load Next Story