بھارتی ریاست میں عیسائی پادری پر ہولناک تشدد، انتہا پسندی نے نئی حد پار کرلی

حملہ آوروں نے پادری کے چہرے پر سندور مل دیا، انہیں جوتوں کا ہار پہنایا اور گاؤں میں گھمایا

بھارت میں ہندوتوا نظریے سے وابستہ انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔

بھارتی ریاست اوڈیشہ میں ایک عیسائی پادری پر مبینہ طور پر انتہا پسند ہندو تنظیم کے کارکنوں نے تشدد کیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق اوڈیشہ میں بجرنگ دل سے وابستہ افراد نے ایک عیسائی پادری کے گھر پر دھاوا بولا، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے ساتھ دعائیہ اجتماع میں شریک تھے۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے پادری کو تشدد کا نشانہ بنایا، لاٹھیوں سے مارا پیٹا اور زبردستی مذہبی نعرے لگوائے۔

اخبار کے مطابق حملہ آوروں نے پادری کے چہرے پر سندور مل دیا، انہیں جوتوں کا ہار پہنایا اور گاؤں میں گھمایا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ واقعے کے دوران مدد کی درخواست کے باوجود پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔

واقعے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سماجی انتشار میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف مذہبی آزادی پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story