لاہور: بچی پر شیرنی کے حملے کے معاملے میں اہم پیشرفت، 11 شیر زیرتحویل، ملزمان گرفتار

برآمد کیے گئے جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں

شیرنی کے بچی پر حملہ کرنے کے معاملے میں مزید پیش رفت ہوئی جب کہ خفیہ اطلاع پر ایس پی اقبال ٹاؤن نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 11 غیر قانونی طور پر رکھے شیروں کو تحویل میں لے کر ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

برآمد کیے گئے جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں،  ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز  نے بتایا کہ شیروں کو نواں کوٹ کے علاقہ میں فیکٹری میں رکھا گیا تھا،  فیکٹری کے نیچے ایمبرائیڈری کا کام، فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے۔

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز  نے کہا کہ شیروں چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور شفٹ کیا تھا، ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں،  ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے شیر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کردیے گئے۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمر سمیت پوری ٹیم کو شاباش دی، انہوں نےگزشہ روز بچی زخمی ہونے کا نوٹس لیا تھا، بچی کو زخمی کرنے والی شیرنی اور مالکان کو گرفتار کر لیا گیا تھا، ڈی آئی جی آپریشنز نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا حکم دیا تھا، ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔

شہری آبادی میں شیروں کی موجودگی نے وائلڈلائف کی کارکردگی کا پول کھول دیا

وائلڈلائف رینجرز کی طرف سے شہری آبادیوں میں بگ کیٹس رکھنے پرپابندی ہے، نواں کوٹ کے علاقہ سے غیرقانونی طور پر رکھے گئے 11 شیربرآمد کرلیے گئے۔

پولیس نے شیربرآمد کرکے وائلڈلائف کے حوالے کردیئے، وائلڈلائف رینجرز کی طرف سے تحقیقات جاری ہیں۔

ملزمان نے شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالی، ڈی آئی جی آپریشنز 

ملزمان نے جانوروں کی زندگی کو بھی خطرے سے دوچار کیا، فیصل کامران 

قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، فیصل کامران

Load Next Story