حکومت اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کے خلاف پھٹ پڑے

رکن قومی اسمبلی پولین بلوچ  نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولیات بہت ناکافی ہے بلوچستان کے اکثر علاقے انٹرنیٹ سے محروم ہے

قومی سبلی اجلاس میں وقفہ سوالات  کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کے خلاف پھٹ پڑے۔

رکن قومی اسمبلی پولین بلوچ  نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولیات بہت ناکافی ہے بلوچستان کے اکثر علاقے انٹرنیٹ سے محروم ہے۔

ارکان قومی اسمبلی نے کہا کہ طلبہ و طالبات کو طلبہ و طالبات کو داخلوں اور جابز کے لیے ان لائن اپلائی کرنا مشکل ہو چکا ہے،  پارلیمانی سیکرٹری  نے کہا کہ اب تک 273 میگاہرٹز سپیکٹر م موجود ہے جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کی ضرورت پوری نہیں ہوتی، اگلے ماہ 600 میگاہرٹز سپیکٹرم کی بولی ہونے جارہی ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری  نے کہا کہ اسپیکٹرم 273سے 600میگا ہرٹزہونے پر انٹرنیٹ کی رفتار دوگنا ہو جائے گی۔

اسپیکر سردار ایازصادق نے کہا کہ اسلام آباد سے لاہور اور اسلام آباد سے پشاور موٹروے پر موبائل سروس نہیں چلتی۔

رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل  نے کہا کہ اسلام آباد سے سی پیک موٹروے پر موبائل سروس نہیں، میانوالی بھکر ایم ایم روڈ پر موبائل سگنل نہیں آتے، پارلیمنٹ کے سامنے پارلیمنٹ لاجز میں انٹر نیٹ درست نہیں آتا تو بلوچستان میں کیا آتا ہوگا۔

پارلیمانی سیکرٹری  نے کہا کہ بلوچستان میں موبائل اور انٹرنیٹ کے لئے 52ارب روپے یو ایس ایف سے دئیے گئے، بلوچستان میں سب سے زیادہ پیسے بلوچستان کے لئے دئیے گئے۔

پولین بلوچ کا کہنا تھا کہ اگر سب سے زیادہ 52ارب روپے بلوچستان کے لئے دئیے ہیں تو سب سے زیادہ انٹرنیٹ مسئلہ بھی بلوچستان میں کیوں ہے۔

Load Next Story