غزہ میں امن : پاکستان نے بھی بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے

ورلڈ اکنامک فورم کے سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ سالانہ اجلاس میں وزیراعظم نے ٹرمپ کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کیے

ڈیووس: پاکستان نے امریکا کی دعوت قبول کرتے ہوئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کردیے جس کا مقصد غزہ میں قیام امن کے لیے اقدامات اٹھانا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کا 56 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکا کی جانب سے غزہ میں امن کے لیے بورڈ آف پیس (Gaza Board of Peace) تشکیل دیا گیا۔

تقریب میں مختلف ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی تقریب میں موجود تھے۔

اسی موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا اور کہا کہ اس بورڈ کے قیام کا مقصد عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، 59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں شامل ہیں اور کئی عالمی رہنما اس فورم کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بعد ازاں ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کردیے اور دستاویزات کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ جس کے بعد دیگر مملکت سربراہان اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی چارٹر پر دستخط کردیے۔

دستخط کے ساتھ ہی پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن، غزہ میں مستقل جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے عالمی عمل میں فعال شمولیت اختیار کرلی۔

بورڈ آف پیس کیا کام کرے گا؟

بورڈ آف پیس پر دستخط کا بنیادی مقصد غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے حصول، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تعمیرِ نو، اور فلسطینی عوام کیلئے باعزت اور پائیدار مستقبل کی ضمانت ہے۔

تعمیرِ نو کے منصوبے میں رہائشی گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور سماجی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل شامل ہے۔

بورڈ آف پیس میں پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکا شامل ہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک کی نمایاں موجودگی اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ فلسطینی حقوق، ریاستی حیثیت اور حقِ خودارادیت اس عالمی اقدام کے مرکز میں رہیں گے۔

وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے ملاقات

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔

ملاقات کانفرنس روم کے باہر ہوئی جس میں دیگر سربراہان مملکت بھی موجود تھے۔  بعدازاں وزیراعظم ڈیووس سے لندن کے لیے روانہ ہوگئے، وزیراعظم چند روز لندن میں قیام کریں گے۔

متعلقہ

Load Next Story