بورڈ آف پیس میں یورپ شامل نہ ہوا مگر شہباز شریف قاتل نتین یاہو کیساتھ مشاورت کرینگے، فضل الرحمان
مولانا بڑبڑائے تو کیا میں یہ سب خواب دیکھ رہا تھا؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)
امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یورپ و فرانس سمیت بہت سے ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کردیا، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اس قاتل نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کررہے ہوں گے؟
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں محمود خان اچکزئی کو مبارک باد دیتا ہوں کہ وہ اپوزیشن لیڈر بنے، محمود خان اچکزئی ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، امید ہے حکومت نے سنجیدگی دکھائی تو اپوزیشن اور حکومت ملکر پاکستان کو مشاورت سے بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ٹرمپ کے پیس بورڈ پر بات کرنا بہت ضروری ہے، برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیل ریاست قائم کردی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ میں بھی یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہ کرنے کی تجویز دی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ کو نظراندازکردیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ لیگ آف نیشنزکو نظرانداز کرتے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں بسا دیا گیا، جس کے باعث مسئلہ فلسطین پیدا ہوا وہی اس کے منصف بن رہے ہیں، ستر ہزار لاشوں کے مرتکب نتین یاہو کو پیس بورڈ میں شامل کرلیا ہے، ٹرمپ خود ہی پیس بورڈ کا سربراہ بیٹھا ہے، ٹرمپ جس کو چاہے پیس بورڈ کا ممبر بنا دے جس کو چاہے نکال دے۔
اس بورڈ آف پیس کا رکن اس قصاب نیتن یاہو کو بنایا گیا ہے تو اس اجلاس میں شہباز شریف بھی نیتن یاہو کے شانہ بشانہ بیٹھے ہوں گے، مولانا فضل الرحمان pic.twitter.com/BFNu3sJDxQ
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہماری پالیسیاں عالمی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940کی قرارداد میں دی، ہم کیوں اس پر بات نہیں کرتے، قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے حکمران کیا قائد اعظم کی اسرائیل پالیسی کی سوچ بھی رکھتے ہیں؟ بانی پاکستان کے نام پر روٹیاں ٹکڑے کھانے والے کیا قائد اعظم کی اسرائیل کی پالیسی کے نزدیک سے بھی گزرتے ہیں، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے اپکو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایوان اگرچہ عوام کا منتخب کردہ نہیں، پھر بھی یہ ایوان ہے تو سہی، بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد لیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو اقوام متحدہ جارہے تھے تواس ایوان کا بھرپور اعتماد لیکر گئے، فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہا، فلسطین میں ہم امن دینے جارہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، اپنے ملک کے اضلاع کے اضلاع مسلح گروہوں کے پاس ہیں، اپنی فورسز اپنی پوسٹیں خالی کرکے مسلح گروہوں کے حوالے کررہی ہیں، ٹانک بنوں لکی مروت ڈی آئی خان سمیت کئی علاقوں میں ٹھیکیداروں سے بھتہ لیا جاتا ہے۔
ملکی معاملات میں مشاورت ، مشارکت اور مفاہمت کی روش کو اپنائیں تو ہم بہت سے الجھے ہوئے مسائل سے نکل سکتے ہیں
مولانا فضل الرحمان صاحب کا اسمبلی کے فلور پر خطاب pic.twitter.com/NaGqhE2cMDان کا کہنا تھا کہ ہمارے بجٹ میں تو لگتا ہے مسلح گروہوں کے بھتے کاحصہ رکھا جاتا ہے، اپنے ملک میں امن نہیں اور ہم ظلم کے ساتھ دینے فلسطین جارہے ہیں، بار بار یہاں اپنی وفاداری کا حلف دے چکا ہوں، ایک علاقہ جہاں 45سال سے خون بہہ رہا ہے وہاں کیا ہوگا، ہمیں بتایا جائے ہمارے دو صوبوں کے حوالے سے اپنے ارادے بتادو۔
انہوں نے کہا کہ یقین ہوگیا ہے بجٹ میں دس فیصد ان کا حصہ رکھ کر پاس کیا جاتا ہے، سرکاری افسر سرمایہ کار بھتہ دیکر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں، یورپ و فرانس سمیت بہت سے ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اس قاتل نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کررہے ہوں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ آج مغربی جمہوریت کی اصلیت آمریت ننگی ہوکر سامنے آرہی ہے، وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو اغوا کرنے والااغوا کار آج امن کا ٹھکیدار بن رہا ہے، آج ہمارے ملک میں آمریت دولت اور طاقت کا اتحاد ہوچکا ہے، عالمی سطح پر بھی آمریت طاقت اور دولت کا اتحاد ہوچکا ہے، ہمارے آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج غیر اسلامی قانون سازی کرتے ہوئے بھی اسے جمہوری حق قرار دیا جاتا ہے، دو ترامیم عوام کو کمزور اور اپنی اتھارٹی حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہیں، ہمارا نظام جمہوریت نہیں جبر کے تحت چل رہا ہے، عدالتی فیصلے سے جو دوتہائی اکثریت جبر سے بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سود کے خاتمہ پر کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ایوان میں نہیں لائی گئیں، اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کو زنا بالجبر قرار دیا جارہا ہے، آٹھ فروری پھر آرہا ہے، آٹھ فروری کو بطور یوم سیاہ منایا جائے گا، ہم مفاہمت چاہتے ہیں مگر اسے روک دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترامیم میں حاصل استشنی واپس کرنا ہوگا، نہ یہ استشنی آئینی ہے نہ اسلامی ہے، ہمیں نتین یاہو کی موجودگی اور ٹرمپ کی صدارت میں پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کردیا چاہئے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔
امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو۔
پاکستان نے ٹرمپ کے پیس بورڈ کو کل جوائن کرنے کا اعلان کیا ہے آپ کا کیاموقف ہے صحافی کا سوال۔
یہ کیسا امن بورڈ ہے جس میں فساد کی جڑ نتین یاہو کو شامل کرلیا گیا ہے
امن بورڈ میں فلسطینی شامل نہیں مگر نتین… pic.twitter.com/NgNtggrgUE
Load Next Story