ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں کون شامل ہوا؟ کس نے کیا صاف انکار
برطانیہ سمیت متعدد اتحادی ممالک نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کے لیے 35 ممالک نے دستخط کردیئے ہیں تاہم کچھ ممالک نے صاف انکار کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے دوران سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں متعدد ممالک نے بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔
تاہم ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ یہ ادارہ ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، نے کئی مغربی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
انہی خدشات کی بنیاد پر متعدد یورپی ممالک نے تاحال غزہ بورڈ آف پیش میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ نے برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔
بورڈ آف پیس کیا ہے؟
امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ جنگ بندی معاہدے پر ثالثوں سمیت حماس اور اسرائیل نے اتفاق کرلیا تھا۔ اس امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ایک بورڈ کی تجویز رکھی گئی تھی۔
نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس منصوبے کی توثیق بھی کی تھی جس میں اس بورڈ کو غزہ کی غیر فوجی حیثیت اور تعمیرِ نو کی نگرانی سونپی گئی تھی۔
تاہم سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا ذکر ہی نہیں بلکہ اسے ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جس کا دائرہ کار صرف غزہ تک نہیں بلکہ تنازعات اور جنگ کے خطرے سے دوچار ممالک اور علاقوں میں امن، استحکام اور حکمرانی کو فروغ دینے کی ذمہ داری بھی نبھائے گا۔
صدر ٹرمپ اس بورڈ کے غیر معینہ مدت کے چیئرمین ہوں گے جب کہ ایک ایگزیکٹو بورڈ میں جیئرڈ کشنر، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر شامل ہوں گے۔
مستقل رکنیت کے لیے ممالک کو 1 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے، جو غزہ کی تعمیرِ نو پر خرچ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کن ممالک نے شمولیت قبول کی؟
اب تک جن ممالک نے شمولیت کی حامی بھری ہے ان میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، قطر، بحرین، پاکستان، ترکی، ہنگری، مراکش، کوسووو، ارجنٹینا، پیراگوئے، قازقستان، ازبکستان، انڈونیشیا، ویتنام، آرمینیا، آذربائیجان اور اسرائیل شامل ہیں۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو بھی اس بورڈ میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اکثر لوگ یورپ کا آخری ڈکٹیٹر کہتے ہیں۔
بورڈ میں شمولیت کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے اور ٹرمپ کے بقول وہ شامل ہونے پر آمادہ ہیں، تاہم روس نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
البتہ روسی صدر پوٹن نے مبینہ طور پر تجویز دی ہے کہ امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے 1 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی بورڈ میں مشروط شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔
کن ممالک نے انکار کیا؟
فرانس اور ناروے نے یہ اعتراض کرتے ہوئے شمولیت سے صاف انکار کردیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے ساتھ کیسے کام کرے گا۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ کسی کونسل میں بیٹھنا مشکل ہے کیونکہ روس ہمارا دشمن ہے اور بیلاروس اُس کا اتحادی ہے جو بورڈ میں شامل ہوچکا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے آئینی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے شرکت سے معذرت کی جبکہ آئرلینڈ نے کہا ہے کہ وہ دعوت پر غور کر رہا ہے۔
چین کو بھی دعوت دی گئی ہے مگر اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے ساتھ وابستہ رہے گا۔
برطانیہ بھی بورڈ آف پیس سے خود کو دور کر رکھا ہے جس کی ایک وجہ روس کی شمولیت اور دوسری وہ بھی اسے اقوام متحدہ کے متبادل ادارہ بنانے کی ایک کوشش سمجھتا ہے۔
بورڈ پر عالمی اعتراضات اور خدشات
سفارتی ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے اس بورڈ کے وسیع اختیارات، ٹرمپ کی غیر معینہ سربراہی اور اقوامِ متحدہ کے کردار پر ممکنہ اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان خدشات کی ایک بڑی وجہ بورڈ میں مستقل نشست کے لیے 1 ارب ڈالر کی شرط ہے جو بدعنوانی کے خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ اس تاثر کا ابھرنا ہے کہ یہ بورڈ آف پیس دراصل اقوام متحدہ کے متوازی یا اس کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔
اس بورڈ پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ غزہ جنگ میں ملوث ممالک بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں جو امن کے مقصد سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔