سانحہ گل پلازہ، ملبے سے مزید باقیات برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی

پلازہ کی چھت سے 61 میں سے 16 موٹرسائکلیں اتار لی گئی ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری ہے، ریسکیو حکام

فوٹو: فائل

کراچی:

ایم جناح روڈ پر واقع گل پلازہ پر آتشزدگی کے چھٹے روزہ بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے اور اس دوران مزید باقیات برآمد کرلی گئی ہیں اور جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے۔

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی سے جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے اورلاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، 8 افراد کی شناخت ڈی این اے سے مکمل ہوگئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ 6 لاشیں مکمل تھیں اور ایک کو شناختی کارڈ سے شناخت کیا گیا۔

اس سے قبل ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں تلاش کا عمل کا جاری ہے جو ایسوسی ایشن کی مدد سے کی جا رہی ہے اور کہا گیا کہ تلاش کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

حکام نے بتایا تھا کہ مزید دو افراد کی باقیات ملنے کے بعد سانحے میں جاں بحق کی تعداد 62 ہوگئی ہے تاہم مزید تلاش ابھی جاری ہے۔

ریسکیو نے مزید بتایا تھا کہ پلازہ کی چھت سے 61 میں سے 16 موٹرسائکلیں اتار لی گئی ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری اور اسی دوران مزید باقیات ملی ہیں، ملنے والی باقیات کو قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی پلازہ منہدم کرنے کی سفارش

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور ٹینینکل کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا اور سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریش کے بعد منہدم کیا جائے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارتی نے بتایا کہ گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل ہے، گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا، گل پلازہ سے متصل پلازوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے متاثرین رحمان، حسام اور سرفراز کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

میئر کراچی نے متاثرہ خاندان کے کاروبار کی بحالی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ حکومت سندھ متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، ہماری کوشش ہے کہ متاثرین کے پیاروں کو جلد از جلد ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔

متعلقہ

Load Next Story