اپوزیشن کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی مخالفت، معاہدے کی شرائط پبلک کرنے کا مطالبہ

بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے، اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے، بیرسٹر گوہر

—فوٹو: فائل

اسلام آباد:

اپوزیشن جماعتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے امن بورڈ معائدے کی شرائط پبلک کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےکڑی تنقید کی اور کہا آمریت، طاقت اور دولت کا اتحاد ہوچکا ہے قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے، 70ہزار فلسطینیوں کا قاتل نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف امن پر مشاورت کر رہے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں محمود خان اچکزئی کو مبارک باد دیتا ہوں کہ وہ اپوزیشن لیڈر بنے، محمود خان اچکزئی ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، امید ہے حکومت نے سنجیدگی دکھائی تو اپوزیشن اور حکومت مل کر پاکستان کو مشاورت سے بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ٹرمپ کے پیس بورڈ پر بات کرنا بہت ضروری ہے، برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیلی ریاست قائم کردی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ میں بھی یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہ کرنے کی تجویز دی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ کو نظرانداز کر دیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لیگ آف نیشنز کو نظرانداز کرتے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں بسا دیا گیا، جس کے باعث مسئلہ فلسطین پیدا ہوا، وہی اس کے منصف بن رہے ہیں، 70 ہزار لاشوں کے مرتکب نیتن یاہو کو پیس بورڈ میں شامل کرلیا ہے اور ٹرمپ خود ہی پیس بورڈ کا سربراہ بیٹھا ہے، ٹرمپ جس کو چاہے پیس بورڈ کا ممبر بنا دے جس کو چاہے نکال دے۔

ہماری پالیسیاں عالمی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، مولانا فضل الرحمان

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہماری پالیسیاں عالمی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940کی قرارداد میں دی، ہم کیوں اس پر بات نہیں کرتے، قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے حکمران کیا قائد اعظم کی اسرائیل پالیسی کی سوچ بھی رکھتے ہیں؟ بانی پاکستان کے نام پر روٹیاں ٹکڑے کھانے والے کیا قائد اعظم کی اسرائیل کی پالیسی کے نزدیک سے بھی گزرتے ہیں، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان اگرچہ عوام کا منتخب کردہ نہیں، پھر بھی یہ ایوان ہے تو سہی، بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد لیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو اقوام متحدہ جارہے تھے تواس ایوان کا بھرپور اعتماد لے کر گئے، فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہا، فلسطین میں ہم امن دینے جا رہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، اپنے ملک کے اضلاع کے اضلاع مسلح گروپس کے پاس ہیں۔

اپنی فورسز پوسٹیں مسلح گروپس کے حوالے کر رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان

ان کا کہنا تھا کہ اپنی فورسز اپنی پوسٹیں خالی کرکے مسلح گروپس کے حوالے کررہی ہیں، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ڈی آئی خان سمیت کئی علاقوں میں ٹھیکیداروں سے بھتہ لیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بجٹ میں تو لگتا ہے مسلح گروپس کے بھتے کا حصہ رکھا جاتا ہے، اپنے ملک میں امن نہیں اور ہم ظلم کے ساتھ دینے فلسطین جا رہے ہیں، بار بار یہاں اپنی وفاداری کا حلف دے چکا ہوں، ایک علاقہ جہاں 45 سال سے خون بہہ رہا ہے وہاں کیا ہوگا، ہمیں بتایا جائے ہمارے دو صوبوں کے حوالے سے اپنے ارادے بتادو۔

انہوں نے کہا کہ یقین ہوگیا ہے بجٹ میں 10 فیصد ان کا حصہ رکھ کر پاس کیا جاتا ہے، سرکاری افسر سرمایہ کار بھتہ دے کر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں، یورپ و فرانس سمیت بہت سے ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اس قاتل نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کررہے ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج مغربی جمہوریت کی اصلیت آمریت ننگی ہوکر سامنے آرہی ہے، وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو اغوا کرنے والااغوا کار آج امن کا ٹھکیدار بن رہا ہے، آج ہمارے ملک میں آمریت دولت اور طاقت کا اتحاد ہوچکا ہے، عالمی سطح پر بھی آمریت طاقت اور دولت کا اتحاد ہوچکا ہے، ہمارے آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری پھر آرہا ہے، 8 فروری کو بطور یوم سیاہ منایا جائے گا، ہم مفاہمت چاہتے ہیں مگر اسے روک دیا جاتا ہے، ترامیم میں حاصل استشنیٰ واپس کرنا ہوگا، نہ یہ استشنیٰ آئینی ہے نہ اسلامی ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہمیں نیتن یاہو کی موجودگی اور ٹرمپ کی صدارت میں پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کردینا چاہیے۔

بورڈ آف پیس میں شمولیت کیلئے پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسڑ گوہر نے کہا کہ فلسطین اور غزہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، فلسطین پر ہمارا مؤقف رہا ہے کہ ہر وہ حل ہمیں قبول ہوگا جو مسلم دنیا کو قبول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوئے، غزہ میں لاکھوں لوگ زخمی ہوئے ہیں، اب بورڈ آف پیس کا ایشو سامنے آیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کو قبول کر لیا، گزشتہ روز ایک پریس ریلیز آئی جس میں اس پیس آف بورڈ کو قبول کرنے کا بتایا گیا، ابھی تک پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہمیں بتائیں کہ بورڈ آف پیس کو کن شرائط پر قبول کیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے یہ ادارہ علیحدہ سے تشکیل پا رہا ہے اقوام متحدہ کے تحت ہوتا تو حکومت خود فیصلہ کر سکتی تھی اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے۔

پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کا معاملہ تمام پاکستانیوں کا معاملہ ہے، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں زیر بحث ہے کچھ معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غزہ کی تعمیر نو کرے گا، ایوان میں یہ بات آئے گی اور یک جہتی کا پیغام جانا چاہیے۔

حکومتی رکن نے کہا کہ ہمیں نے امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے اوپر ہمیشہ آواز بلند کی، غزہ کی تعمیر نو اور مستقل فائر بندی کی وجہ سے پاکستان نے بورڈ آف پیس میں جانے کا فیصلہ کیا اور اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پیس بورڈ کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت سامنے آیا ہے، اس لیے پاکستان کو اس کا رکن بننا چاہیے اور پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

Load Next Story