بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
عالمی سطح پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہوتے ہی مودی ایک مرتبہ پھر پاکستان فوبیا کا شکار ہوگیا ہے۔
آذربائیجان میں اقلیتوں پر بھارتی مظالم کےخلاف پہلی عالمی کانفرنس ہونے جارہی ہے جس میں شرکا نے شدید اظہارِ تشویش کیا ہے۔
عالمی نشریاتی ادارہ آزر ٹیک نیوز کے مطابق آذربائیجان میں اقلیتوں کیخلاف بھارت کی جابرانہ پالیسیوں پر پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ عالمی کانفرنس بھارتی درندگی کو عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے میں تبدیل کرنے کا واضح اشارہ ہے۔
آزر ٹیک نیوز کے مطابق 1984 کے فسادات میں 8 سے 17 ہزار سکھوں کے منظم قتل پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ 50 ہزار سے زائد سکھ ہجرت پر مجبور جبکہ 90-1980 تک بے تحاشا جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے۔
پاکستان کی مؤثر اور متوازن خارجہ پالیسی اور بھارتی مظالم کےخلاف آواز بلند ہونے پر گودی میڈیا تلملا اٹھا ہے۔ عالمی کانفرنس کے بعد گودی میڈیا نے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان پر من گھڑت الزامات لگا دیے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے مؤقف پر بھی بھارتی میڈیا نے آذربائیجان پر پاکستانی بیانیہ اپنانے کا الزام بھی لگادیا۔ اس سے قبل کینیڈا سمیت بیشتر ممالک سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی سرپرستی کے شواہد پیش کر چکے ہیں۔