سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کیلیے ایم کیو ایم کا وزیراعظم کو ہنگامی خط
وفاقی وزیر تعلیم اور ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کروانے کیلیے وزیراعظم کو ہنگامی خط ارسال کردیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز سے جاری اعلامیہ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم پاکستان کو ایک ہنگامی مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے سانحہ گل پلازہ کی "پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ" کے تحت اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خط میں موقف اختیار کیا کہ سانحے کو سات روز گزرنے کے باوجود کئی لوگ لاپتہ ہیں اور 12 ہزار سے زائد متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کے منتظر ہیں، جبکہ 100 سے زائد اموات اور اربوں کے مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت، میئر کراچی اور ایس بی سی اے (SBCA) کی مجرمانہ غفلت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے، نیب اور حساس اداروں پر مشتمل ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے اور وفاق کے زیرِ انتظام "ریلیف اور بحالی فنڈ" قائم کیا جائے۔
دوسری جانب مرکزِ بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ارکانِ مرکزی کمیٹی و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت فوری طور پر وفاق کے حوالے کیا جائے یا اسے دارالخلافہ تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم نے سندھ کے شہری علاقوں کی نسل کشی کی ہے اور یہ ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے یاد دلایا کہ ایم کیو ایم نے پچیس سالہ "را" کے تسلط کو ختم کرنے کے لیے ریاست کو اسلحے کے ٹرک بھر کر دیے، مگر آج شہر کو "جمہوری دہشت گردوں" کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے وزرا ماضی میں نائن زیرو پر گھٹنے ٹیکتے تھے اور لندن جا کر قائد کے ذاتی معاملات حل کرواتے تھے، مگر آج وہی لوگ شہر کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے دو ٹوک اعلان کیا کہ اگر نئی آئینی ترمیم میں بلدیاتی اختیارات کی شق شامل نہ کی گئی تو ایم کیو ایم کے تمام اراکین استعفیٰ دے دیں گے کیونکہ وہ وزارتوں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔