طالبان رجیم میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دے دی گئی

عوام کو علما، اشرافیہ، متوسط ​​طبقے، نچلے طبقے، آزاد اور غلام کے طور پر بھی درجہ بند کیا گیا ہے

طالبان رجیم کا ایک نیا منظور شدہ فوجداری ضابطہ سامنے آیا ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔

لندن میں قائم افغان انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے افغان عدالت کے فوجداری ضابطے کی کاپی کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

نیا فوجداری ضابطہ بنیادی آزادیوں کو محدود کرتا ہے اور من مانی حراست اور سزاؤں کی اجازت دیتا ہے۔

راوداری نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے طالبان عدالتوں کے ضابطہ فوجداری کی ایک کاپی حاصل کی ہے جسے حال ہی میں طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے منظور کیا ہے اور عمل درآمد کے لیے ملک بھر کے عدالتی اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

راوداری نے کہا کہ مسودہ تین حصوں، 10 ابواب اور 119 آرٹیکلز پر مشتمل ہے جو براہ راست بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ گروپ نے مزید کہا کہ یہ دفاعی وکیل تک رسائی، خاموش رہنے کے حق یا معاوضے کے حق کی ضمانت نہیں دیتا اور نہ ہی یہ منصفانہ ٹرائل کے لیے دیگر بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں نیا نظام غیر حنفی اور اہل السنۃ و الجماعۃ سے مختلف عقائد کے پیروکاروں کو "بدعتی" کے طور پر درجہ بند کرتا ہے جس میں شیعہ، اسماعیلی، اہل حدیث، سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب کے افراد شامل ہیں۔

گروپ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مسودے میں "باغیوں" کو "بدعنوانی کے ایجنٹ" کے طور پر لیبل کیا گیا ہے اور ان کیلئے پھانسی کی سزا ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ ایک اور شق میں کسی بھی مسلمان شہری کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ جب کسی شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھیں تو وہ سزا دے سکتے ہیں۔

نیا ضابطہ سماجی درجہ بندی اور غلامی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ عوام کو علماء، اشرافیہ، متوسط ​​طبقے، نچلے طبقے، آزاد اور غلام کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ نگرانی کے بغیر  اس پر عمل درآمد سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر اور لاقانونیت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو منظم زیادتیوں کے لیے ایک قانونی آلے کے طور پر استعمال ہوگا۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے ضابطے کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے تمام قانونی اقدامات کریں۔

گروپ نے کہا کہ وہ ضابطے کے نفاذ کی نگرانی جاری رکھے گا اور میڈیا، بین الاقوامی تنظیموں اور افغان شہریوں  کو اس کے اثرات کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔

دوسری جانب طالبان نے اس رپورٹ پر کوئی حالیہ تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم طالبان رجیم یہ کہتی آئی ہے کہ ان کے قوانین اور پالیسیاں اسلامی قانون کی تشریح مبنی ہیں۔

Load Next Story