موبائل ٹیکس میں رعایت کی وائرل خبر جعلی نکلی، پی ٹی اے کی دو ٹوک وضاحت
سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر گردش کرنے والے ایک نوٹس نے شہریوں میں الجھن پیدا کردی تھی، جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے درآمد شدہ اور رجسٹرڈ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کردی ہے۔
تاہم پی ٹی اے نے اس اطلاع کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔
وائرل ہونے والا پیغام اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شیئر کیا جا رہا تھا اور اسے ’’قدر دان صارفین‘‘ کے نام سے مخاطب کیا گیا تھا۔ اس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ٹیکس میں مبینہ رعایت صرف قانونی درآمد کنندگان اور رجسٹرڈ فروشوں کے لیے ہے، جبکہ عام صارفین یا ذاتی استعمال کے لیے فون درآمد کرنے والوں کو پہلے کی طرح ہی ادائیگی کرنا ہوگی۔
پیغام کے آخر میں لوگوں کو بار بار سوال نہ کرنے اور اس وضاحت کو تسلیم کرنے کا کہا گیا تھا تاکہ اسے سرکاری اعلامیے جیسا بنایا جا سکے۔
اتھارٹی نے عوام، کاروباری حلقوں اور موبائل فون امپورٹرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے جعلی پیغامات کو نظرانداز کریں اور غیر مصدقہ معلومات آگے پھیلانے سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کی خبریں مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کرتی ہیں۔
Fake Notification Alert
Islamabad, (22 January, 2026): A fake notification is circulating on social media regarding an alleged reduction in mobile taxes and instructions for mobile phone importers and consumers. This information is entirely false and misleading.
PTA has issued… pic.twitter.com/8KGGXohjUQ— PTA (@PTAofficialpk) January 22, 2026
ماہرین کے مطابق جعلی نوٹیفکیشن اکثر موبائل فونز پر عائد زیادہ ٹیکس کے حوالے سے عوامی تشویش سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور سرکاری زبان و انداز اپنا کر صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ خریداری مؤخر کر دیتے ہیں یا قیمتوں میں کمی کی امید لگا بیٹھتے ہیں جو بعد میں پوری نہیں ہوتی۔
پی ٹی اے نے یہ بھی یاد دہانی کرائی ہے کہ ٹیکس، ڈیوائس رجسٹریشن یا درآمدی پالیسی سے متعلق کسی بھی سرکاری فیصلے کا اعلان ہمیشہ ادارے کی ویب سائٹ اور اس کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔