فورسز قربانیوں کا ذکر تو زور شور سے کرتی ہیں، دہشتگردی بڑھتی چلی جارہی ہے، مولانا فضل الرحمان

گزشتہ روز شادی کی تقریب میں خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہیں، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ شب ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب پر خودکش حملہ میں شہید ہونے والے پانچوں افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم اس المناک واقعہ کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات محض ایک سماجی تقریب پر حملہ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی احساسات پہ گہرا اثر ڈال جاتے ہیں جس سے سوسائٹی سسک کے رہ جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہماری ریاستی مشینری اور سرکاری فورسز قیام امن کے لیے اپنی کوششوں اور قربانیوں کا ذکر تو نہایت زور شور سے کرتے ہیں لیکن عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا  کے مصداق بدامنی اور تشدد کی لہریں بدستور بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ شہری سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بے پناہ وسائل اور لامحدود اختیارات کے باوجود دن بدن حکومتی رٹ محدود اور گورننس کا بحران کیوں بڑھ رہا ہے؟۔

مولانا نے کہا کہ ریاست عوام کےجان و مال اور عزت و ابرو کا تحفظ کرنے کا فرض کیوں نہیں نبھا سکتی۔ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کی نقل و حمل کی آزادی محدود اور بنیادی انسانی حقوق سلب کر لینے کے باوجود دہشتگردی کیوں شہر کے دروازے پہ دستک دینے لگی ہے۔

Load Next Story