مونگ پھلی، گُڑ اور تل: سردیوں کی بہترین غذائیں
سردیوں کا موسم جسم کو اضافی توانائی اور حرارت فراہم کرنے والی غذاؤں کا تقاضا کرتا ہے۔ اس دوران اگر خوراک میں کچھ روایتی مگر طاقتور اجزا شامل کر لیے جائیں تو نہ صرف سردی کا مقابلہ آسان ہو جاتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت بھی مضبوط رہتی ہے۔
مونگ پھلی، گُڑ اور تل صدیوں سے دیسی خوراک کا حصہ رہے ہیں اور ماہرینِ غذائیت کے مطابق یہ تینوں غذائیں سرد موسم میں خاص طور پر فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔ آیئے جانتے ہیں کہ یہ غذائیں کیوں ضروری ہیں اور انہیں روزمرہ خوراک میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے۔
سردیوں میں جسم کو اضافی توانائی کیوں درکار ہوتی ہے؟
ٹھنڈے موسم میں جسم کو حرارت برقرار رکھنے کےلیے زیادہ توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ قوتِ مدافعت کو مضبوط رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ نزلہ زکام اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ ایسی غذائیں جو صحت مند چکنائی، پروٹین اور معدنیات سے بھرپور ہوں، سردیوں کے لیے بہترین انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔
مونگ پھلی: پروٹین اور صحت مند چکنائی کا خزانہ
مونگ پھلی سردیوں میں عام دستیاب اور سستی غذا ہے، مگر اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ اس میں پروٹین، فائبر، وٹامن ای اور صحت مند فیٹس پائے جاتے ہیں جو جسم کو دیر تک توانائی فراہم کرتے ہیں۔
مونگ پھلی کھانے سے دل کی صحت بہتر رہتی ہے، بھوک دیر سے لگتی ہے اور جسمانی کمزوری میں کمی آتی ہے۔ سردیوں میں بھنی ہوئی مونگ پھلی ایک بہترین اسنیک ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ اسے چٹنی یا سلاد میں شامل کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گُڑ: قدرتی مٹھاس اور آئرن کا ذریعہ
گُڑ کو سفید چینی کے مقابلے میں زیادہ قدرتی اور غذائیت سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔ اس میں آئرن، پوٹاشیم اور دیگر معدنیات پائے جاتے ہیں جو خون کی کمی سے بچانے اور جسمانی توانائی بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
سردیوں میں گُڑ کھانے سے جسم کو حرارت ملتی ہے اور نظامِ ہاضمہ بھی بہتر رہتا ہے۔ دیسی ٹوٹکوں میں گُڑ کو نزلہ زکام کے دوران بھی مفید مانا جاتا ہے، جبکہ اسے مونگ پھلی یا تل کے ساتھ ملا کر مزیدار اور طاقت بخش مٹھائیاں بھی تیار کی جاتی ہیں۔
تل: ہڈیوں اور جلد کے لیے مفید بیج
تل کے چھوٹے سے دانے غذائیت کا بڑا خزانہ ہیں۔ ان میں کیلشیم، میگنیشیم، زنک اور صحت مند تیل موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے، جلد کی خشکی کم کرنے اور جسم کو حرارت دینے میں مدد دیتے ہیں۔
سردیوں میں تل کے لڈو یا چکی کھانا عام ہے، کیونکہ یہ جسم کو اندر سے گرم رکھتے ہیں۔ تل کا تیل بھی مالش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو خون کی گردش بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ان تینوں غذاؤں کو ساتھ کھانے کے فائدے
مونگ پھلی، گُڑ اور تل جب ایک ساتھ استعمال کیے جائیں تو ان کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں۔ یہ امتزاج فوری توانائی دیتا ہے، قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے اور سرد موسم میں جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی پکوانوں میں ان تینوں کو ملا کر بنائی گئی چیزیں، جیسے گجک، چکی اور لڈو، خاص طور پر مقبول ہیں۔
روزمرہ خوراک میں کیسے شامل کریں؟
ان غذاؤں کو روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا مشکل نہیں۔ صبح ناشتے میں تھوڑی سی مونگ پھلی اور گُڑ لیا جا سکتا ہے، جبکہ تل کو دلیے، سلاد یا روٹی پر چھڑک کر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گھر میں تیار کی گئی مونگ پھلی اور تل کی چکی صحت مند میٹھا بن سکتی ہے جو بچوں اور بڑوں سب کے لیے مفید ہے۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
اگرچہ یہ غذائیں صحت بخش ہیں، مگر ذیابیطس کے مریض گُڑ کا استعمال محدود رکھیں اور مونگ پھلی سے الرجی رکھنے والے افراد پرہیز کریں۔ اسی طرح زیادہ مقدار میں تل کھانے سے کچھ لوگوں کو معدے کی خرابی ہوسکتی ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔
مونگ پھلی، گُڑ اور تل سردیوں میں جسم کو توانائی، حرارت اور ضروری غذائی اجزاء فراہم کرنے والی بہترین غذائیں ہیں۔ متوازن مقدار میں ان کا استعمال نہ صرف سرد موسم میں صحت برقرار رکھتا ہے بلکہ مجموعی فٹنس اور قوتِ مدافعت کو بھی بہتر بناتا ہے۔