سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریض اور تیماردار شدید مشکلات کی زد میں
کراچی میں یخ بستہ سرد ہواؤں نے سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریض اور ان کے تیماردار شدید مشکلات کی زد میں ہیں۔ محکمہ کی جانب سے کوئی شیلٹر تعمیر نہیں کیے گئے جبکہ سرکاری اسپتالوں کی ان عمارتوں میں جہاں مریض داخل ہیں کھڑکیا دروازے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
کراچی سمیت اندرون سندھ کے کسی بھی سرکاری اسپتالوں میں سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی شیلٹرہوم قائم نہیں جس کی وجہ سے مریضوں کے اہلخانہ کھلے آسمان کے نیچے اسپتالوں کی فٹ پاتھوں پررات کے اوقات میں شدید اذیت سے گزار رہے ہیں، ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔
اسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں شیلٹرہوم اس لیے قائم نہیں کیے گئے کہ اسپتالوں میں رات کے اوقات میں غیر متعلقہ افراد بھی سونے کے جگہ تلاش کرتے ہیں جس سے اسپتالوں میں تیماداروں کے سامان کی چوری کے واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں۔ اس شدید سرد موسم کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کے اہلخانہ اپنے اپنے پیاروں کو گھروں سے لحاف کمبل لائے جارہے ہیں جبکہ تیمارداروں کو اس سرد موسم میں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
اندرون سندھ سے آئے ہوئے ایک مریض کے تیمادارعاشق بھٹو نے بتایا کہ سانگھڑ سے جناح اسپتال میں اپنے بھائی کے علاج کے لیے ایک ہفتے سے آئے ہوئے ہیں ۔اسپتال کی اوپی ڈی میں بھائی کو چیک اپ کرایا اوربھائی کو داخل کردیا بھائی کے پتے کا آپریشن ہونا ہے تقریبا 5دن ہوگئے آپریشن کی تاریخ ملتی اور تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی میں شدید سردی ہے،شام ہوتے ہیں کراچی میں سرد ہوائیں چلتی ہیں اسپتال میں مریضوں کے تیماداروں کے لیے کوئی شیلٹرہوم نا ہونے کی وجہ سے راتیں سخت سردی میں گزراہے ہیں کسی کوہم غریبوں کے مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کھلے آسمان کے نیچے سردہواوں میں رات گزارتے ہیں۔ ہم مجبوری میں سرکاری اسپتال میں علاج کرارہے ہیں۔
قومی ادارہ برائے امراض قلب اسپتال میں دل کے ایک مریض کے والد دوست میمن نے بتایا کہ ٹھٹھہ سے اپنے نوجوان بیٹے کو علاج کی غرض سے اسپتال لائے تھے جہاں ایمرجنسی میں معائنے کے بعد فوری آپریشن کرانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے بتایا کہ امراض قلب کے اسپتال میں بھی مریضوں کے تیماردار راتیں فٹ پاتھ پر بسر کرتے ہیں، ہر تیماردار اپنے لیے بستر کا انتظام خود کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ گتے کے ٹکرے بطور گڈے اور بوریاں بطور چادر استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بستر خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔
جناح اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ اسپتال میں مریضوں کے تیمارداروں کی مشکلات حل کرنے کے لیے انتظامیہ کوشش کرتی ہے اور مریضوں کی خواتین تیمارداروں کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ قائم ہے، زیادہ پناہ گاہ اس لیے قائم نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا غیر ضروری استعمال شروع ہوجاتا ہے۔
سول اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بخاری نے بتایا کہ اسپتال میں تیمارداروں کے لیے کوئی مستقل شیلٹر ہوم نہیں ہے، کئی مقامات پر عارضی سائبان قائم کئے گئے ہیں، اسپتال میں مریضوں کا رش زیادہ ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ مریضوں کے تیمارداروں کا فلاحی اداروں کے تعاون سے خیال رکھا جاتا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں تیماردار کے لیے سہولیات میں کمی ہے لیکن محکمہ صحت کی کوشش ہے کہ انتظامیہ اور فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ان کے مسائل حل کیے جائیں۔