مسلسل نگرانی اور جبر، طالبان پالیسیاں افغانستان کو انسانی بحران کی طرف لے گئیں
افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں کے باعث بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، جہاں عوام خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
مبصرین کے مطابق طالبان انتظامیہ نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سخت اور جابرانہ اقدامات کو معمول بنا لیا ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے بڑھتے ہوئے تشدد اور دباؤ کے باعث عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسی گاڑیوں میں خواتین کو لے جانے پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث ڈرائیور طالبان کے خوف سے خواتین کو سفر کی سہولت دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اسی طرح سرکاری ملازمین کو مختلف الزامات اور حیلے بہانوں کے تحت بلاجواز گرفتار کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہشت صبح کے مطابق طالبان کی وزارتِ صحت کے زیر اہتمام ایک گریجویشن تقریب کے دوران میڈیکل طلبہ کو مبینہ طور پر تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے نام نہاد "علاقائی پاسپورٹ" فارمز کے ذریعے عوام سے بار بار ذاتی معلومات حاصل کیں، جسے ماہرین نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔