سپر ٹیکس کو مختلف ہائیکورٹس میں چیلینج کرنے والے 150 درخواست گزاران کی فہرست عدالت میں پیش
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔
کیس کی سماعت کے دوران ایف بی آر وکیل عاصمہ حامد نے سپر ٹیکس کو مختلف ہائیکورٹس میں چیلینج کرنے والے 150 درخواست گزاران کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔
عاصمہ حامد نے مؤقف اپنایا کہ جب ایک ہائی کورٹ قانون کی شقوں کو درست قرار دے دے ، تو اس قانون کو دوسری ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، اب بھی فوجی فرٹیلائزرز کی جانب سے رٹ پٹیشنز دائر کی جا رہی ہیں تاکہ اپنی کا مرضی کا فیصلہ لیا جا سکے، درخواست گزاروں کی جانب سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا۔
وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ قانونی تقاضے عدالتی کارروائی کے دوران ہوتے قانون سازی کے عمل میں نہیں ہوتے، قانون سازی کے عمل میں ٹیکس سے پہلے ٹیکس پیئر کو سنا جانا ضروری نہیں ہے، اس کیس میں درخواست گزاروں کی جانب سے امریکی سپریم کورٹ کی مثالیں دی جاتی رہیں، ہر ملک کا اپنا آئین ہوتا ہے۔
وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں ٹیکس کے ماضی سے اطلاق کو درست قرار دیا تھا، اس وقت 29 فیصد نارمل ٹیکس لاگو ہے، سپر ٹیکس 10 فیصد اور قانون میں لکھ دیا گیا اور یہ ادائیگی کے قابل ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شیئرز پر جو کام کرتے ہیں اور بینکوں سے قرض لیتے ہیں اور بینکوں کو بھی سود دیتے ہیں اخراجات میں سے وہ بھی نکالیں گے ؟ میں نے خود سوال کیا تھا کہ اگر سرمایہ کاری کرنی ہے تو اپنوں پیسوں سے کریں۔
وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ اس حوالے سے ٹیکس آرڈیننس کے آٹھویں شیڈول میں واضح ہے ، اس کو کسی نے چیلنچ ہی نہیں کیا، ایف بی آر وکیل عاصمہ حامد کے دلائل مکمل ، ایف بی آر وکیل حافظ احسان کھوکھر وقفے کے بعد دلائل دیں گے۔