روسی آئل نیٹ ورک کیخلاف کارروائی، فرانس نے مشتبہ تیل بردار جہاز کا بھارتی کپتان گرفتار کر لیا

فرانسیسی حکام کے مطابق ٹینکر گرنچ روس کے شمال مغربی شہر مرمانسک سے آیا تھا

پیرس: فرانس کی بحریہ نے بحیرۂ روم میں روس پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے شبے میں ایک آئل ٹینکر کو روکنے کے بعد اس کے کپتان کو حراست میں لے لیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ٹینکر کے 58 سالہ بھارتی کپتان کو اتوار کے روز تفتیش کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

مارسی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق آئل ٹینکر گرنچ (Grinch) کو موڑ کر خلیج فوس سر میر (Fos-sur-Mer) میں لنگر انداز کیا گیا، جہاں اس کے کپتان کو تحویل میں لیا گیا۔ تحقیقات میری ٹائم جینڈرمیری کے تحقیقاتی یونٹ اور مارسی شپ سیفٹی سینٹر مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ ٹینکر پر لہرایا جانے والا جھنڈا اور جہاز رانی سے متعلق دستاویزات درست اور قانونی ہیں یا نہیں۔ بیان کے مطابق جہاز کا عملہ، جو تمام بھارتی شہری ہیں، تاحال ٹینکر پر ہی موجود ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق ٹینکر گرنچ روس کے شمال مغربی شہر مرمانسک سے آیا تھا اور شبہ ہے کہ یہ روسی “شیڈو فلیٹ” کا حصہ ہے، جو یوکرین جنگ کے باعث روس پر لگائی گئی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ یورپی ممالک کے مطابق روس پابندیوں سے بچنے کے لیے 400 سے زائد جہازوں پر مشتمل ایک خفیہ فلیٹ استعمال کر رہا ہے۔ فرانس اور دیگر ممالک نے اس نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر رکھا ہے۔

Load Next Story