نیب کی تاریخی کارروائی، سب سے بڑی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ کی ریکوری
(فوٹو: فائل)
اعلیٰ سطحی بدعنوانی کے خلاف ایک تاریخی کارروائی میں قومی احتساب بیورو (نیب خیبر پختونخوا) نے 4.05 ارب روپے کی خطیر رقم برآمد کر لی ہے، جو نیب کی تاریخ میں ایک ہی بار میں ہونے والی سب سے بڑی نقد وصولی ہے۔
یہ رقم بدنامِ زمانہ کوہستان میگا اسکینڈل میں برآمد کی گئی، جس میں قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والی ایک سنگین سازش کو بے نقاب کر دیا۔
اس مقدمے کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ مرکزی ملزم قیصر اقبال نے ایک ڈمپر ڈرائیور ممتاز خان کو بطور فرنٹ مین استعمال کیا۔ اس نام نہاد بے نامی دار کے ذریعے فرضی کمپنی“ممتاز کنسٹرکشن کمپنی”کے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، جن کے ذریعے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے نکال کر ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔
ناقابلِ تردید شواہد کے سامنے آنے پر فرنٹ مین ممتاز خان نے پلی بارگین کا راستہ اختیار کرتے ہوئے نقد رقم، جائیدادوں اور گاڑیوں کی صورت میں یہ بھاری رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی۔
احتساب عدالت نے اس پلی بارگین کی توثیق کر دی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ریکارڈ ریکوری ممکن ہوئی بلکہ اس وسیع اسکینڈل میں پہلی سزا بھی سامنے آ گئی۔
یہ محض ایک مالی وصولی نہیں بلکہ ایک تاریخی اعلان ہے۔ نیب نے نہ صرف ایک بے مثال رقم واپس حاصل کی بلکہ بے نامی لین دین اور شیل کمپنیوں کے پیچیدہ جال کو بھی توڑ کر رکھ دیا جو بدعنوانی کو چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
پیغام بالکل واضح ہے احتساب کا ہاتھ ہر پردے کے پیچھے تک پہنچ سکتا ہے، اور قومی خزانے کی چابیاں بالآخر ہتھکڑیوں میں بدل سکتی ہیں۔