مسئلہ فلسطین خطے کے عدم استحکام کی جڑ قرار، پاکستان کا دوٹوک مؤقف
فائل فوٹو
اقوام متحدہ میں پاکستان نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں جاری بے یقینی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، جبری نقل مکانی اور تباہی ناقابل قبول ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے اور غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کا آغاز کیا جائے۔
عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر سمجھتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کسی بھی صورت متزلزل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی مندوب نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام اور لبنان میں بھی اپنی غیر قانونی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، کیونکہ ایسے اقدامات پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔