افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا؟ عالمی جریدے کی تشویشناک رپورٹ
امیرِ طالبان نے اخلاقی قانون کے نفاذ کے لیے سول اور فوجی حکام کے نام حکم نامہ جاری کردیا
اسلام آباد: افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی رپورٹ میں افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔
یوریشیا ریویو کے مطابق افغان طالبان حکومت اب صرف افغانستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے باعث پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔
یوریشیا ریویو کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف اپنے شہریوں ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ عالمی برادری افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عالمی برادری اب اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔