ٹرمپ کی کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی

اس فیصلے سے توانائی بحران کا شکار کیوبا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت کیوبا کو تیل فروخت یا فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کی مصنوعات پر امریکا ٹیرف عائد کرے گا۔

اس فیصلے سے توانائی بحران کا شکار کیوبا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس اقدام کا سب سے زیادہ دباؤ میکسیکو پر پڑنے کا امکان ہے، جو طویل عرصے سے کیوبا کو تیل فراہم کرتا آ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کیوبا کو ایک ناکام ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو زبردستی دباؤ میں لانا نہیں چاہتے، تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں کیوبا کا نظام زیادہ دیر تک چلتا دکھائی نہیں دیتا۔

کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے امریکی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے کیوبا اور اس کے عوام کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بلیک میلنگ اور دباؤ کے ذریعے دیگر ممالک کو کیوبا کے خلاف پابندیوں میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

کیوبا اس وقت شدید توانائی اور معاشی بحران کا شکار ہے اور اپنی ضروریات کے لیے میکسیکو، روس اور وینزویلا جیسے اتحادی ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی کے بعد وہاں سے کیوبا کو تیل کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔

میکسیکو کی سرکاری تیل کمپنی پیمیکس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں کیوبا کو روزانہ تقریباً 20 ہزار بیرل تیل فراہم کیا جا رہا تھا، تاہم بعد ازاں یہ مقدار کم ہو کر تقریباً 7 ہزار بیرل رہ گئی۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے تیل کی فراہمی میں کمی کو تجارتی معاہدوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کے دباؤ کا نتیجہ نہیں۔

میکسیکو میں اس معاملے پر بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے، جبکہ کیوبا میں عوام پہلے ہی ایندھن کی قلت کے باعث طویل قطاروں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی فیصلے سے لاطینی امریکا میں سیاسی اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ

Load Next Story