ایمان مزاری ٹوئٹس کیس فیصلہ، عدالت کا ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف حذف کرنے کا حکم
فوٹو: فائل
انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف استغاثہ کی درخواست پر حذف کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت کے جج افضل مجوکہ نے استغاثہ کی درخواست پر ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم جاری کیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں موجود غلطی کی درستی کے لیے استغاثہ نے درخواست دائر کی، غلطی سے چار ممالک کا نام فیصلے میں لکھا گیا تھا اور اسٹینوگرافر نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ جملہ دیگر چند جملوں کے ساتھ فیصلے کی تصحیح کے دوران حذف کر دیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اسٹینوگرافر کے مطابق جملہ حتمی پرنٹ کے وقت غلطی سے دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا تاہم اسٹینوگرافر کی غلطی میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔
جج اضل مجوکہ نے فیصلے میں کہا کہ موجودہ مقدمے میں مذکورہ جملے کی کوئی قانونی حیثیت یا فریقین کے حقوق کے تعین سے کوئی تعلق نہیں بنتا لہٰذا 561 اے کے تحت عدالت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی کی درستی کر سکتی ہے۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں جملے کو حذف کرنے کا حکم دیا اور درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔
یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے متنازع ٹوئٹس میں 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دونوں کو پیکا ایکٹ کے سیکن 9 کےتحت 5 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10 سال قید کی سزا اور 3 کروڑ روپے جرمانہ اور سیکشن 26 اے کے تحت 2 سال قید و 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائیں اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا تھا۔