غزہ میں ایک اور صلاح الدین ایوبی؛ پاکستانی اے آئی سے بنی پہلی فلم کی نمائش
پاکستان کی اے آئی سے بنی پہلی فلم دی نیکسٹ صلاح الدین کا موضوع غزہ ہے
گزشتہ ہفتے شاندار اور ہاؤس فل پریمیئر کے بعد پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی فیچر فلم ’’دی نیکسٹ صلاح الدین‘‘ جمعے کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کردی گئی۔
یہ فلم استاد عاصم اسماعیل کے تصور پر مبنی ہے جب کہ اس کے تخلیق کار اور مصنف فرحان صدیقی ہیں۔
فلم اندسٹری میں انقلاب برپا کردینے والی جدید اے آئی فلم سازی سے ایک مؤثر، فکر انگیز اور مداحوں کو سحر میں مبتلا کردینے والے اسلام کی ایک نامور جری اور بہادر شخص کو پیش کیا گیا ہے۔
یہ مسلمانوں کی دلیرانہ تاریخ اور غزہ کے پائیدار اور لازوال جذبۂ مزاحمت سے متاثر ہو کر تیار کی گئی یہ کہانی ایک جرات مندانہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب ناانصافی مسلسل قائم رہے، تو کیا تاریخ ایک اور صلاح الدین کو جنم دے سکتی ہے؟
فلم ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جو جبر کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور بہادری، اتحاد اور اصولی قیادت کے ساتھ فتح حاصل کرتا ہے۔
یہ فلم کسی بھی قسم کے تصادم کو ہوا دیے بغیر امید، انصاف اور ایمان کا مضبوط اور مثبت پیغام پیش کرتی ہے۔
فلم کی نمایاں خصوصیات میں اس کی اے آئی سے تیاری، شاندار بصری مناظر، دل کو چھو لینے والی کہانی اور گہری جذباتی تاثیر شامل ہیں۔
پریمیئر کے بعد عوام کی جانب سے ملنے والی زبردست پذیرائی کے باعث ’’دی نیکسٹ صلاح الدین‘‘ پاکستان بھر کے ناظرین کے لیے ایک انقلابی سینما تجربہ ثابت ہونے جا رہی ہے۔