ہیرے کی پہچان جوہری ہی جانتا ہے
ہم کو خلق کرنے والی ذاتِ عظیم نے بہت محبت سے انسانی سانچے میں ڈھالا ہے پھر بے شمار نعمتوں سے نواز کر اس دنیا میں اُتارا ہے لیکن یہاں آکر خود کی زندگی کو سنوارنے کے بجائے ہم اپنے ہاتھوں سے ہی بگاڑ لیتے ہیں۔
پوری قومِ انسانی کو ایک مشترکہ مسئلہ درپیش ہے جو ان کی ہنستی بستی زندگیوں کو اُداسی کا گہوارہ بنا دیتا ہے اور وہ مسئلہ ہے اپنی قوم کے اپنے ہی جیسے دیگر افراد کی ذات سے انگنت اُمیدیں وابستہ رکھنا۔
انسان طبیعتاً ایک حساس مخلوق ہے، جو جسمانی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود احساسات کے معاملے میں باآسانی کمزور پڑ جاتی ہے۔
انسان کو کوئی دوسرا انسان تب تک تکلیف نہیں پہنچا سکتا جب تک وہ اُسے خود اس کی اجازت نہ دے۔ یہاں یہ حقیقت تسلیم کرنے میں مجھے کوئی عار محسوس نہیں ہو رہا ہے کہ جب جب ہمارا دل کسی دوسرے انسان کے ہاتھوں ٹوٹتا ہے، تب تب اُس میں دل توڑنے والے سے زیادہ قصور ہماری اپنی ذات کا ہوتا ہے۔
ہم اپنے منظورِ نظر افراد کی ذات سے مختلف اقسام کی اُمیدیں لگا لیتے ہیں اور جب سامنے والا اُن پر ہماری عین خواہش کے مطابق پورا نہیں اُترتا تو اس بات کا روگ لگا کر اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں کو منفی پردوں میں ڈھانپ کر سراپا شکست خوردہ بن جاتے ہیں۔
جو انسان جیسا ہوتا ہے، وہ دوسروں کو ویسا ہی تصورکرتا ہے، اسی طرح جس انسان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ دوسروں کو وہی فراہم کرتا ہے۔ سچا اور کھرا انسان سامنے والے کو بھی ان ہی صفات کا مالک سمجھتا ہے جب کہ فریبی افراد سے وفا کی آس رکھنا خود کو بیوقوف بنانے سے ہرگز کم نہیں ہے۔
اس دنیا میں ہمارے لیے لاتعداد آسائشیں خالقِ کائنات نے موجود رکھی ہیں، یہاں حسین رنگوں کا بہترین امتزاج ہمارا دل لبھانے کے لیے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
دلکش نظارے، خوشحال زندگی، محبت کی چاشنی سے گوندھے رشتے، روحانی سکون، علم کی روشنی، ظاہری خوبصورتی اور باطنی اطمینان، سبھی کچھ تو ہمارے پروردگار نے ہمیں مہیا کیا ہوا ہے پھر آخر کیوں ہم بلاوجہ منفی سوچ پال کر اپنی ذات کو اذیتوں کی دلدل میں پھنسا لیتے ہیں۔
راہِ زندگی میں مسکرا کر ملنے والے ہر شخص پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے نہ اُنھیں اپنے حلقہ احباب میں شامل کرکے اُن پر فریفتہ ہوا جاسکتا ہے۔ خود کی شخصیت کو معتبر بنانے کی ذمے داری ہمارے اپنے کندھوں پر ہے، اگر ہم اپنی ذات کو دوسروں کے پاؤں تلے روندنے کے لیے پیش کر دیں گے، تو دوسرا ہمیں برابری کا مقام دینے کی زحمت کیوں کرے گا۔
اپنے من چاہوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مداری کا بندر بننے کے بجائے آپ جو ہیں اور جیسے ہیں، اگر ویسے ہی رہیں گے تو یہ چیز آپ کی ذات کا وقار بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
جو انسان آپ کو اپنی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے یا آپ سے اپنا ظاہر و باطن بدلنے کا تقاضا کرے، وہ کسی طور قابلِ قدر نہیں ہوسکتا ہے۔
انسان نئے رشتوں کو اپنی زندگی کی ترنم میں اضافے کے لیے استوار کرتا ہے نہ کہ اپنی ذات میں پہلے سے موجود احساسِ کمتری کے عنصر کو بڑھاوا دینے کے لیے، خود کو تکالیف کے سمندر میں غوطہ زن ہونے سے بچانے کے لیے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانا بہت ضروری ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ہے۔
ہر انسان اپنے آپ میں ایک ہیرا ہے، وہ الگ بات ہے کہ دنیا کی آلودگی کو دانستہً اپنے اندر سمو کر بعض لوگ کوئلہ بن جاتے ہیں لیکن دنیا میں وہ ایک قیمتی اور آنکھوں کو خیرہ کرتی روشنی عطا کر کے پُر نور ہیرے کے طور پر بھیجے گئے ہیں اور ہیرے کی پہچان جوہری ہی جانتا ہے۔
خود کو عزت دینا اور خود سے محبت کرنا، ہر انسان کا اپنے آپ سے عہد ہونا چاہیے، کوئی دوسرا انسان آپ کی ذات کے حوالے سے ایسے کسی عہد کی وفا کرے یا نہ کرے، آپ نے بس خود سے بے وفائی نہیں کرنی ہے۔
ہمیں زندگی محض ایک بار ملنی ہے اور جس دورِ انسانی میں ہم یہاں اُتارے گئے ہیں اُس میں دورانیہ زندگی مختصر سے مختصر ترین ہوتا جا رہا ہے، لٰہذا جتنا وقت میسر آ رہا ہے اُسے کُھل کر باخوشی جینا چاہیے بنا کسی بیکار کے غموں کو ملحوظِ خاطر لاکر۔
آپ کی زندگی میں جو افراد تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہے ہیں اُنھیں بانہیں پھیلا کر خوش آمدید کہیے اور جن اشخاص کی موجودگی آپ کے لیے گھٹن کا باعث بن رہی ہے، اُنھیں اپنی زندگی سے باہر نکلنے کا راستہ دکھانے میں ہرگز دیر نہ کریں۔