حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک جملہ ’’ ڈمی مدارس اور جعلی بورڈز‘‘ گردش میں ہے۔ اس جملے کی تکرار نے فطری طور پر یہ سوال پیدا کیا کہ آخر اس میں استعمال ہونے والے لفظ ’’ ڈمی‘‘ کی لغوی اور فکری بنیاد کیا ہے؟
اس تجسس کے تحت جب مختلف لغات اورکتب معانی میں ’’ ڈمی مدارس‘‘ کی ترکیب تلاش کی گئی تو حیرت انگیز طور پر اس کا کوئی با قاعدہ اندراج کہیں نہ ملا۔ اس تلاش کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا بعید از قیاس نہیں کہ ’’ ڈمی مدارس‘‘ دراصل لغت کا نہیں بلکہ پاکستانی مذہبی و سیاسی بیانیے کا ایک نیا اضافہ ہے۔
پاکستانی عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ میدان سیاست کے ماہرین اور مختلف مکاتب فکر کے بعض نمائندگان اپنی خطابت اور بیانیے میں وقتاً فوقتاً ایسے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرواتے رہتے ہیں، جو بظاہر معلومات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی مثبت اور کبھی منفی رخ اختیارکر لیتے ہیں۔
ایسے الفاظ جن کی کوئی واضح لغوی یا فکری بنیاد موجود نہ ہو، دراصل ذو معنی کہلاتے ہیں۔ یعنی وہ اصطلاحات جو وقت، مفاد اور نظریاتی ضرورت کے تحت اپنے معنی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جن کا اطلاق حقیقت سے زیادہ تاثر سازی پر مبنی ہوتا ہے۔
تحریر کو طول دینے کے بجائے اگر لفظ ’’ ڈمی مدارس‘‘ تک محدود رکھا جائے تو سب سے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آخر لفظ ’’ ڈمی‘‘ کی اصل کیا ہے اور یہ کن لسانی روایتوں سے ماخوذ ہے؟ اسی مقصد کے تحت جب اردو کی معتبرکتب لغات، جیسے نوراللغات، المعجم الاعظم، المنجد اور شائق اللغات کا مطالعہ کیا گیا تو ان میں لفظ ’’ ڈمی‘‘ یا اس سے ملتی جلتی کوئی واضح اصطلاح موجود نہ ملی۔
البتہ فرہنگ آصفیہ اور فیروز اللغات میں تلاش کرنے پر بھی لفظ ’’ ڈمی‘‘ نہیں ملا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اردو لغات میں لفظ ’’ ڈمی‘‘ اپنی موجودہ معنوی صورت کے ساتھ کہیں رائج نہیں۔
فارسی اور عربی لغات میں اس لفظ کی تلاش اس لیے بھی بے معنی ٹھہرتی ہے کہ ان زبانوں میں حرف ’’ ڈ ‘‘ سرے سے موجود ہی نہیں۔ تاہم جب انگریزی لغات کی طرف رجوع کیا گیا تو حقیقت واضح ہوگئی کہ ’’ ڈمی‘‘ دراصل انگریزی لفظ (Dummy) ہے، جو اردو میں بر اہ راست مستعار لیا گیا ہے۔
انگریزی میں Dummy کے بنیادی معانی جعلی، نقلی، مصنوعی یا نمائشی شے کے ہیں، یعنی وہ چیز جو اصل کی جگہ وقتی طور پر استعمال کی جائے۔
اس کی مثالوں میں کپڑوں کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والا پتلا (Mannequin)، کتاب یا اخبار کی اشاعت سے قبل تیارکیا جانے والا عارضی خاکہ (Mock-up)، کسی نظام کی جانچ کے لیے بنایا گیا، فرضی ڈیٹا یا اکاؤنٹ (Dummy Data)، حتیٰ کہ تاش کے کھیل بریج میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہے جس کے پتے سب کے سامنے کھلے ہوتے ہیں۔
اسی مفہوم کی تائید اردو کے معروف ادبی ذخیرے ’’ریختہ‘‘ سے بھی ہوتی ہے، جہاں ’’ ڈمی‘‘ کو زیر طباعت کتاب، اخبار یا رسالے کے اس عارضی ڈھانچے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو چھپائی سے پہلے سادے یا ردی کاغذ پر تیار کیا جاتا ہے۔
اور ڈمی سے مراد عموماً وہ شے، شخص یا اصطلاح ہوتی ہے جو اصل کی نمائندگی تو کرتی ہو مگر اپنی حیثیت میں حقیقی نہ ہو۔ چاہے وہ تربیت کے لیے استعمال ہونے والا انسانی ماڈل ہو، کمپیوٹر سسٹم کا فرضی ڈیٹا، یا سیاست و سماج میں ایسا فرد جو بظاہر عہدے پر فائز ہو مگر اصل اختیار کہیں اور ہو۔
مختصراً ’’ڈمی‘‘ ایسی چیز یا صورت کا نام ہے جو حقیقت نہیں بلکہ محض نمائش، آزمائش یا نمائندگی کے لیے اصل کا روپ دھارے ہوتی ہے۔ یہی مفہوم جب کسی سماجی یا دینی اصطلاح کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے مضمرات کو سمجھنا اور پرکھنا نا گزیر ہو جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی سے بھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ’’ڈمی مدارس‘‘ سے آخر کیا مراد لی جاتی ہے۔ اس استفسار کے جواب میں جو توضیح سامنے آئی، وہ اس اصطلاح کے رائج مفہوم کو نسبتاً واضح کرتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کے مطابق ڈمی مدارس سے مراد ایسے مدارس یا دینی ادارے ہوتے ہیں جو نام اور کاغذی ریکارڈ میں تو مدرسہ کہلاتے ہیں، مگر عملاً ان میں نہ کوئی منظم تعلیمی نظام موجود ہوتا ہے، نہ تدریس کا تسلسل اور نہ ہی دینی مقاصد کی حقیقی تکمیل۔ اسی بنا پر اس اصطلاح کا استعمال عموماً تنقیدی اور منفی معنوں میں کیا جاتا ہے۔
اس مفہوم کے تحت ’’ڈمی مدارس‘‘ کی چند نمایاں صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔ بعض ادارے محض رجسٹریشن کی حد تک وجود رکھتے ہیں، جہاں نہ باقاعدہ طلبہ ہوتے ہیں، نہ اساتذہ اور نہ ہی تعلیم کا کوئی مؤثر سلسلہ۔ کہیں مدارس کا قیام محض فنڈز، چندے یا سرکاری و غیر سرکاری مراعات کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے۔
بعض جگہ ریکارڈ میں فرضی طلبہ اور اساتذہ درج کر دیے جاتے ہیں، جب کہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض ادارے صرف معائنہ یا کسی وزٹ کے موقع پر عارضی طور پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں، باقی اوقات میں وہ غیر فعال رہتے ہیں۔
بعض صورتوں میں مدرسہ اپنے اصل دینی مقصد سے ہٹ کر ذاتی، سیاسی یا مالی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے۔ یوں یہ اصطلاح کسی ایک مخصوص ادارے کی نشاندہی نہیں کرتی، بلکہ ایک ایسے طرز عمل اور رویے کی عکاس ہے جس میں دینی تعلیم کے نام پر محض ظاہری ڈھانچا قائم رکھا جاتا ہے، جب کہ اس کے اندر وہ روح اور مقصد مفقود ہوتا ہے جس پر دینی اداروں کی اصل بنیاد قائم ہوتی ہے۔
مذکورہ تحقیق سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں ’’ڈمی‘‘ کی اصطلاح محض اخبارات و رسائل تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ مختلف فکری، سماجی اور انتظامی میدانوں میں بھی پوری شدت کے ساتھ متحرک دکھائی دیتی ہے۔
آج ہمیں ڈمی تحریریں، ڈمی مقالات، ڈمی بیانات، ڈمی خیالات، ڈمی گفتگو، نامی معاملات، ڈمی ادارے، ڈمی جماعتیں، حتیٰ کہ ڈمی حکمران اور ڈمی شخصیات تک کثرت سے نظر آتی ہیں۔ گویا یہ اصطلاح اب صرف ایک لفظ نہیں رہی بلکہ ایک طرز فکر اور رویے کی علامت بن چکی ہے۔
لیکن اب اصل تحقیق طلب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ڈمی مدارس کون سے ہیں؟ اور وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جعلی، نیم حقیقی اور اصلی مدارس و دینی وفاق کو با آسانی پہچانا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب محض الزامات یا تاثرات کی بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ نتیجہ قائم کرنے سے پہلے مدارس اور وفاقات کے قیام، ان کے تاریخی پس منظر اور ارتقائی مراحل پر ایک سنجیدہ نظر ڈالی جائے، تاکہ مسئلے کو صحیح تناظر میں سمجھا جا سکے اور رائے قائم کرنے میں سہولت اور توازن پیدا ہو۔
حکومت پاکستان کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام 1974 میں عمل میں آیا۔ بعد ازاں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں ملک میں قائم دینی مدارس کے چار بڑے پرائیویٹ امتحانی و تعلیمی وفاق۔ وفاق المدارس العربیہ (دیوبند)، تنظیم المدارس اہل سنت (بریلوی)، وفاق المدارس السلفیہ (اہل حدیث) اور وفاق المدارس الشیعہ، اپنے اپنے مدارس کا نصابی اور امتحانی نظام منظم انداز میں چلارہے تھے۔
جنرل ضیا کے دور میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 17 نومبر 1982 کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ان وفاقات کی آخری درجہ کی سند شہادۃ العالمیہ کو ایم۔ اے کے مساوی درجہ دے کر UGC کو با قاعدہ منظوری کا پابند بنایا گیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ان چاروں وفاقات سے منسلک مدارس کی آخری سند کو سرکاری سطح پر عمومی قبولیت حاصل ہو گئی۔
اس منظوری کے کچھ عرصے بعد جنرل ضیا الحق کو کچھ اور دینی اداروں کی جانب سے درخواستیں بھی موصول ہوئیں کہ قومی سطح (یعنی وفاق) کے علاوہ کچھ نمایاں دینی اداروں کی اسناد کو براہ راستUGC سے تسلیم کیا جائے۔
چنانچہ سرکار کی جانب سے خصوصی شفقت کے تحت جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد (اہل حدیث)، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف (بریلوی)، جامعہ اشرفیہ لاہور (دیو بندی) اور دارالعلوم کورنگی کراچی (دیوبندی) کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔
(جاری ہے۔)