اعتبار ساجد بھی ہم سے بچھڑ گئے

محبتیں، چاہتیں اور شہرتیں سمیٹنے والا یہ شاعر اپنی محبت میں ناکام رہا

شاعری کے جدید تر منظر نامے میں جن شاعروں کے کلام نے میرے درِ ذوقِ سخن پر محبت سے دستک دی ہے، اُن میں اعتبار ساجد کا نام بھی شامل ہے۔ جن کا شمار دورِ حاضر میں اُردو کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی مقبولیت کا سبب وہ رومانی شاعری ہے جس میں غنائیت اور نغمگی کے سا تھ ساتھ ہجر و وصال کی کیفیتوں کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

وصال میں بھی ترے وصل کے رہے طالب

کہ ہم سے جو بھی ہُوا کام، شاعرانہ ہُوا

اعتبار ساجد کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے بیک وقت متنوع اصنافِ نظم و نثر کے لیے اپنے قلم کو استعمال کیا اور شاعری، کالم نگاری، ادبی مکالموں اور تحقیق کے علاوہ شعبہ تدریس اور ادبی صحافت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، لیکن ان کی شاعری کے بارے میں میرا اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کی بعض غزلوں کے اشعار دل سے روح تک اُترنے میں دیر نہیں لگاتے بلکہ اپنا ایک مخصوص اثر چھوڑ جاتے ہیں ۔

ذرا سی فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے

محبت کرنے والے لوگ بھی لاچارکیسے ہیں

اعتبار ساجد اپنے اندازِ سخن اور اسلوبِ بیان کے لحاظ سے ایسے منفرد شاعر ہیں جن کا مزاج عاشقانہ ہے،کیونکہ انھوں نے اپنی غزل کو تغزل کی پوری رعنائی اور نزاکتوں کے ساتھ سنوارا ہے، ان کے ہاں عشق مجازی بھی ہے اور عشق حقیقی بھی۔

اسی لیے ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس بات کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک نرم و گداز شاعر چھپا بیٹھا ہے جو اپنا اظہار بڑی سادگی سے کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں چیخ وپکار، مار دھاڑ نہیں بلکہ اس میں کوئل کی ایسی مدھ بھری آواز ہے جو کان پرکم اور دل پر زیادہ اثر ڈالتی ہے۔

جس سے سننے اور محسوس کرنے والے کی روح پر ایسا وجد طاری ہو جاتا ہے جس سے انسان محبوب کی بارگاہ میں دھمال ڈالنے لگتا ہے۔ ایسا ہی ان کا ایک شعر دیکھے جس میں وہ اپنی روح اور متاعِ جاں کی سانس تک کو دوسروں کی امانت کردیتے ہیں۔

ترا قرض ہے مری زندگی مرے پاس اپنا توکچھ نہیں

مری روح، میری متاعِ جاں، مرے سانس، تیری امانتیں

اعتبار ساجد اپنے ابتدائی دورکے حوالے سے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے جب لکھنے پڑھنے کی دنیا میں قدم رکھا تھا تو وہ اخلاق اور علمی اقدار کے دورکا عروج تھا۔ ہر شخص نہ ادیب و شاعر بن سکتا تھا، نہ اس زمانے کے مقتدر رسائل و جرائد تک پہنچ سکتا تھا،کیونکہ ایڈیٹروں کی کرسیوں پر وہ لوگ براجمان تھے جو صاحبِ مطالعہ اور بہت زیرک اور دور اندیش ہوتے تھے۔

ان کی چھلنی سے جو تحریریں چھن کر نکلتی تھیں وہ واقعی معیار کے لحاظ سے بہترین نہیں تو بہتر ضرور ہوتی تھیں۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور نثری تخلیقات میں پائے جانے والا رنگ ایسے ہی صاحبِ مطالعہ اور زیرک اندیش لوگوں سے سیکھنے کا ثمر ہے۔

جس کی وجہ سے آج وہ زندگی کے اُس مقام پرکھڑے ہیں جہاں لوگ ان سے نہ صرف پیارکرتے ہیں بلکہ ان کا اعتبارکرتے ہوئے ہر محفل میں ان کا انتظارکرتے ہیں۔ بقول شاعر

لوگ ایسے جو قیمتی بھی ہو

اُن میں ترا شمار کرتے ہیں

محبتیں، چاہتیں اور شہرتیں سمیٹنے والا یہ شاعر اپنی محبت میں ناکام رہا اور اپنی زندگی میں کسی کو شریک کرنے سے محروم رہے یا جھجکتا رہے لیکن انھوںنے دوسروں کو بھرپور محبت کا احساس دیا اورجس کا جواب ہمیں ان کے شعری مجموعے ’’ جانم‘‘ کی صورت میں ملا۔ جسے پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

آتشِ دل ہے کہ ہوتی ہی نہیں کم، جانم

اب تو شعلوں کی زباں پر بھی ہے جانم، جانم

میری آنکھوں میں نہ ڈھونڈا کرو آنسو میرے

میں نے سینے میں چھپا رکھا ہے ہر غم، جانم

اعتبار ساجد کے بے شمار شعری اور نثری مجموعے ابتک شائع ہو چکے ہیں جب کہ عالمی ادبی کانفرنسوں، مشاعروں اور سیمیناروں میں متعدد بار پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔

ان کی فن و شخصیت پر بی اے آنرز، ایم اے، ایم فل کے مقالہ جات بھی لکھے جا چکے ہیں، جب کہ دیگر قومی اخبارات کے ایڈیشنزکے علاوہ بے شمار رسائل و جرائد نے خصوصی نمبرز بھی شائع کیے ہیں۔

ان کی کتابوں نے مقبولیت کے شاندار ریکارڈ قائم کیے ہیں اور اب ان کی شاعری کے شائقین کی تعداد لاکھوں سے تجاوزکر کے پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانہ تھا جب پبلشرز اچھی کتاب چھاپنے پر لکھاری کو منہ مانگے معاوضہ دیتے مگر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ایسا ناممکن ہوگیا، لکھاری خود ہی پبلشرز بن کر اپنی کتابیں شائع کرتے ہوئے شہرت کی بلندیوں کے خواب دیکھنے لگے مگر ایسا نہ ہو سکا۔

’’ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت۔‘‘اعتبار ساجد کو اللہ تعالیٰ نے عزت اور شہرت کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ عطا کیا جس کے وہ طلب گار تھے۔

ان کی وجہ شہرت کا باعث بننے والا شعری مجموعہ ’’ مجھے کوئی شام اُدھار دو‘‘ ہے جس کے اب تک کئی ایڈیشنز منظرِ عام پر آ کر داد و تحسین سمیٹ چکے ہیں۔ ان کے اس شعری مجموعے پر پھر کسی وقت لکھنے کا اتفاق کرتے ہوئے ان کی مشہورِ زمانہ غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اُتار دو

میں بہت سے دنوں سے اُداس ہوں مجھے کوئی شام اُدھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد

مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اُتار دو

’’اعتبار ساجد کی فن اور شخصیت‘‘ یہ کتاب ملتان کے مقبول شاعر، ہر دلعزیز نثر نگار اور ادب نواز کتاب دوست مامون طاہر رانا کی برسوں کی محنت، کھوج اور جستجوئے فکر کا نتیجہ ہے جس میں انھوں نے اعتبار ساجد کے فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو مشاہیر پاک و ہند کے مضامین اور تاثرات کی مدد سے ترتیب دیا ہے۔

اس کتاب میں سیکڑوں مضامین، انٹرویوز اور اقتباسات کو جمع کر کے معیاری مواد کو شامل کیا گیا ہے۔ مجھ ناچیز کو بھی اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ’’ پاکستانی ادب کے معمار‘‘ سیریز میں اعتبار ساجد کی شخصیت اور فن پر کتاب لکھنے کا موقع ملا۔

جسے میں نے اُن کی زندگی میں ہی مکمل کر کے اکادمی کو مسودہ ارسال کیا۔ افسوس یہ کام ان کی زندگی میں تو منظرِ عام پر نہ آسکا شائد ان کی وفات کے بعد چھپ کر ان کے چاہنے والوں میں اُن کی یادوں کے دیپ روشن کر سکے۔

ان کی وفات بروز منگل 27 جنوری 2026 کو لاہور میں ہوئی ان کی تدفین مومن پورہ قبرستان میں کی گئی۔ اعتبار ساجد کا سب دل سے احترام کرتے تھے اور محبت کے ساتھ ان کے کلام کو نہ صرف سنتے تھے بلکہ محسوس بھی کرتے تھے۔ ان کے اشعار ذہنوں میں نقش، دلوں پر راج اور روح میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ اعتبار ساجد وہ شاعر تھے جن کی کتابوں کو اب تک تکیے کے نیچے رکھا جاتا ہے۔

Load Next Story