ورزش نہ کرنے کے نقصانات: جسمانی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
سرد موسم میں بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں اور زیادہ تر وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق سردیوں میں جسمانی سرگرمی کم کرنا مختلف مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
سردیوں میں جسم سست کیوں ہو جاتا ہے؟
کم درجۂ حرارت، دھوپ کی کمی اور کم حرکت جسم کے میٹابولزم کو سست کر دیتی ہے، جس سے تھکن اور کاہلی بڑھ سکتی ہے۔
وزن میں اضافہ
ورزش نہ کرنے سے جسم میں کیلوریز جلنے کا عمل کم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے لگتا ہے اور چربی جمع ہو سکتی ہے۔
مدافعتی نظام کمزور ہونا
جسمانی سرگرمی خون کی گردش بہتر بناتی ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھتی ہے۔ ورزش چھوڑنے سے نزلہ، زکام اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جوڑوں اور پٹھوں میں اکڑن
سردی میں حرکت کم ہونے سے جوڑ سخت ہو سکتے ہیں اور پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد کی شکایت بڑھ سکتی ہے۔
ذہنی دباؤ اور اداسی میں اضافہ
ورزش کرنے سے خوشی کے ہارمون خارج ہوتے ہیں، جو ذہنی تناؤ کم کرتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی نہ ہونے سے موڈ خراب رہ سکتا ہے اور اداسی بڑھ سکتی ہے۔
نیند کے مسائل
باقاعدہ ورزش نیند کو بہتر بناتی ہے، جبکہ سستی اور غیر فعال طرزِ زندگی بے خوابی یا غیر معیاری نیند کا باعث بن سکتی ہے۔
دل کی صحت پر منفی اثر
ورزش نہ کرنے سے کولیسٹرول بڑھنے اور بلڈ پریشر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
توانائی کی کمی
حرکت کم ہونے سے جسم سست ہو جاتا ہے اور روزمرہ کاموں میں جلد تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔
سردیوں میں بھی ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی یا گھر کے اندر اسٹریچنگ جاری رکھنا صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف جسمانی طاقت برقرار رکھتی ہے بلکہ ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہے۔