غزہ کیلئے جزوی ریلیف؟ اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی

ابتدائی مرحلے میں روزانہ 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 50 افراد کی واپسی متوقع ہے

غزہ / استنبول: اسرائیل نے تقریباً دو برس بعد غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گزرگاہ کو محدود سطح پر دوبارہ کھول دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس اقدام کو ’’پائلٹ آپریشن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لوگوں کی باقاعدہ آمد و رفت پیر سے شروع ہوگی۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں روزانہ تقریباً 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 50 افراد کی واپسی متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ چھوڑنے والے فلسطینی صرف اسی راستے سے واپس آ سکیں گے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل سرحدی گزرگاہ پر براہِ راست فوجی تعینات نہیں کرے گا بلکہ جدید نگرانی کے آلات کے ذریعے دور سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ مصر کی جانب سے روزانہ ان افراد کی فہرست اسرائیل کو فراہم کی جائے گی جو اگلے 24 گھنٹوں میں سرحد عبور کریں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل محدود تعداد میں زخمی فلسطینی جنگجوؤں کو بھی رفح کے راستے باہر جانے کی اجازت دے سکتا ہے، اور اصولی طور پر جو افراد باہر جائیں گے انہیں بعد میں واپسی کی اجازت دی جائے گی۔

تاحال اسرائیلی، مصری یا فلسطینی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ انسانی امداد کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جس پر اسرائیل نے مئی 2024 میں قبضہ کیا تھا۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران اب تک غزہ میں 71 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے، تاہم غزہ کے میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں مزید 524 افراد جاں بحق اور 1,360 زخمی ہو چکے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story