افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ امریکی جریدے کی تہلکہ خیز رپورٹ
امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان طالبان، نظریاتی اور عملی قربت کے باعث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔
رپورٹ کے مطابق قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششیں بھی افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف سخت اقدامات پر قائل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ جریدے کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کے معاملے میں اب تک واضح اور عملی لائحہ عمل اختیار نہیں کر سکی۔
فارن پالیسی کے مطابق طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو داخلی سطح پر اپنی سیاسی اور نظریاتی ساکھ مضبوط کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ پاک بھارت تنازعات خطے میں عدم استحکام کا سبب بنتے رہے ہیں، تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی بڑے تنازع کی صورت میں دہشت گردی کے خطرات کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام، وسیع تر افراتفری اور امریکی مفادات کے خلاف ممکنہ حملوں کا باعث بن سکتا ہے۔