سندھ ہائیکورٹ نے مزدوروں کے قوانین پر عملدرآمد کی درخواست مسترد کردی
(فوٹو: فائل)
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے مزدوروں کے قوانین پر عملدرآمد سے متعلق درخواست مسترد کردی۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو سندھ کے 8 لاکھ مزدوروں کے لیے قوانین پر عملدرآمد سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواستگزار وکیل سے استفسار کیا کہ کیا کیس لائے ہیں۔ طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ساڑھے 8 لاکھ مزدور متاثر ہیں انکے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ نا کوئی ورکر آیا نا ہی کسی ادارے سے رجوع کیا ہے آپ کیوں آئے ہیں۔ وکیل نے موقف دیا کہ تمام مزدورغریب ہیں عدالت نہیں آسکتے۔ مزدوروں کے حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 8,9 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ لیبر سے متعلق پالیسی بھی تبدیل کردی گئی ہے۔ یو این او کے قوانین اور پاکستان نے جو معاہدے سائن کر رکھے ہیں انکی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار متاثرہ شخص نہیں ہیں۔ سرکار نے مڈل مین اور کنٹریکٹرز کو نکال کر براہ راست مزدروں سے متعلق قانون سازی کی ہے۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ سرکاری وکیل غلط بیانی کررہے ہیں میں اقوام متحدہ کو خط لکھوں گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ آپ کی مرضی ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار جذباتی ہوگئے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا ہے آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں، درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ عدالت کی جانب سے وکیل درخواستگزار کو بار بار روسٹرم چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
طارق منصور ایڈووکیٹ کی جانب سے روسٹرم نا چھوڑنے پر پولیس کو بلا لیا گیا۔ طارق منصور نے کہا کہ مجھے کمرہ عدالت سے باہر پھنکوادیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کہا ہے تو خود ہی چلے جائیں۔ طارق منصور ایڈووکیٹ روتے ہوئے کمرہ عدالت سے باہر نکل آئے۔