کے پی حکومت تیراہ میں بے گھر افراد کی کفالت کر رہی ہے آپریشن کی حمایت نہیں، سلمان اکرم راجا

عوام کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کا مقدر صرف محکومی ہے، ان کے ووٹ اور آواز کی کوئی وقعت نہیں، رہنما پی ٹی آئی

اسلام آباد:

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ کوئی آئین قیدی کو گفتگو سے کوئی نہیں روک سکتا، پابندی کا جیل رُول بھی غیر آئینی ہے، تیراہ میں صوبائی حکومت بے گھر افراد کی کفالت کر رہی ہے وہ آپریشن کی حمایت نہیں کر رہی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی ایک اور درخواست دائر کرنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی آئین قیدی کو گفتگو کرنے سے نہیں روکتا اور اس حوالے سے جیل رول کے تحت عائد کی گئی پابندی بھی غیر آئینی ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قیدی کی آزادی تو چھینی جاتی ہے لیکن اس کی زبان اور ذہن نہیں چھینے جا سکتے۔ جب کوئی شخص کسی قیدی سے ملنے جاتا ہے تو جو اس کے ذہن اور زبان پر آئے وہ بول سکتا ہے، اس پر کسی قسم کی قدغن آئین کے مطابق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظام کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جو جھوٹ 8 فروری کو ہوا، عوام کے ووٹ پر جو ڈاکا ڈالا گیا، اسے پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کا مقدر صرف محکومی ہے ۔ ان کے ووٹ اور آواز کی کوئی وقعت نہیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کے لیڈران کی آزادی حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہی سب سے بڑا لیڈر ہے اور آج یہ لوگ ڈرے اور بوکھلائے ہوئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی آواز بند کرنا ہی ان کا اصل مقصد ہے۔

راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کے پی میں سرکاری جرگے بھی ہیں اور عوام کے حقیقی جرگے بھی ہیں، سہیل آفریدی نے جرگہ بلایا اس کی کیا رائے ہے وہ آپ کے سامنے ہے، کچھ جرگے سرکار خود کھڑے کرتی ہے ، آپ اس پر دھیان نہ دیں، تیراہ میں ایک لاکھ 73 ہزار افراد بے گھر ہیں، وہ اپنی مرضی سے نہیں نکل رہے، یہ صورتحال تشویش ناک ہے، اس پر سرکاری جرگہ بٹھانے سے صورتحال بدلے گی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے وزیراعلی کے پی کی ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟ اس پر ابھی سہیل آفریدی سے بات نہیں ہوئی، ان کا موقف واضح ہے وہ کھڑے ہیں،4 ارب روپے آپریشن کے لیے ریلیز نہیں کیے گئے، سال 2014ء سے لوگ وہاں بے گھر ہیں، وفاقی حکومت نے اس وقت کہا تھا ہر گرے ہوئے گھر کے 4 لاکھ روپے دے گی، جو آج تک نہیں ملے، صوبائی حکومت اب کفالت کر رہی ہے وہ آپریشن کی حمایت نہیں کر رہی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ علیمہ خانم نے مشال یوسف زئی کے بارے میں جو کہا وہ ان کی رائے ہے، کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو وہ کیسے بانی کا وفادار ہوسکتا ہے؟ جھوٹ بولا گیا کہ علیمہ بی بی نے کہا کہ اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم کر دیا جائے، جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کو بہر حال اپنے جھوٹ کا حساب دینا ہوگا۔

مشال یوسفزئی سے ان کے بیان پر 8 فروری کے بعد بازپرس ہوگی

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی کی ملاقات میں ہونے والی عمومی باتیں پتہ ہی، جو بات ہوئی ہے وہ مجھے معلوم ہے لیکن تب کروں گا جب سہیل آفریدی سے مل لوں گا، مشال یوسفزئی سے ان کے بیان کے بارے میں 8 فروری کے بعد بازپرس ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی کے تمام مقدمات مستعدی سے لڑے جا رہے ہیں جہاں انصاف کی امید نہیں وہاں بھی لڑے جا رہے ہیں، یہاں فسطائیت ہے، گزشتہ 2 دنوں میں کراچی شہر میں 180 لوگوں کو اغوا کیا گیا، پنجاب میں چھاپے مارے جا رہے ہیں قہر کا عالم ہے خوفزدہ حکومت ہے، جمعرات کی رات 3 بجے تک 50 ایم پی ایز موجود تھے، ہم سپریم کورٹ گئے وہاں 100ایم پی ایز موجود تھے، ہم اس نظام کو موقع دے رہے ہیں دیکھتے ہیں بات یہاں سے کہاں پہنچتی ہے اگر فارن فنڈنگ کیس میں سزا ہوتی ہے تو ہم اپیل کریں گے۔

Load Next Story