کراچی میں موبائل چوری کے دوران قتل؛ مجرمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

سزائے موت کا معاملہ ہے، اگر کسی کو ناحق سزا ہوئی تو اس کی ذمہ داری روز قیامت وکیل پر ہوگی، جسٹس ہاشم کاکڑ

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

کراچی میں موبائل چوری کے دوران قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ یہ واقعہ 2011 کا ہے اور اس کی ایف آئی آر دو دن بعد نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت پولیس موقع پر پہنچی تھی لیکن ایف آئی آر میں موبائل چوری کا ذکر تک موجود نہیں تھا، بعد میں مقتولین کی جانب سے کیس کو موبائل چوری کا رنگ دیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا معاملہ ہے اور اگر کسی کو ناحق سزا ہوئی تو اس کی ذمہ داری روز قیامت وکیل پر ہوگی۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ بریت چاہتے ہیں یا عمر قید، جبکہ شناخت پریڈ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

Load Next Story