100 سال سے زائد پرانے زمین کے انتقال کو ریکارڈ میں درج کرنیکی درخواست مسترد

طویل مدت گزرنے کے بعد اب ریکارڈ میں تبدیلی کو محض معمولی غلطی قرار دے کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، آئینی عدالت

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے 100 سال سے زائد پرانے زمین کے انتقال کو ریکارڈ میں درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

درخواست گزاروں نے 100 سال بعد پہلی بار سن 2020 میں ان انتقالات کو سرکاری ریکارڈ میں درج کرانے کے لیے رجوع کیا۔

آئینی عدالت نے کہا کہ طویل مدت گزرنے کے بعد اب ریکارڈ میں تبدیلی کو محض معمولی غلطی قرار دے کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، ایک صدی کے دوران اس زمین کے کئی نئے مالک بن چکے ہوں گے جن کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریونیو افسر کا کام صرف ریکارڈ رکھنا ہے، وہ زمین کی ملکیت کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریونیو حکام صرف وہی غلطی درست کر سکتے ہیں جس پر کوئی بڑا تنازع نہ ہو، زمین کی اصل ملکیت کا فیصلہ کرنا صرف شواہد ریکارڈ کرکے دیوانی عدالت کا کام ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں سوال اٹھایا کہ درخواست گزاروں کے بزرگ اپنی زندگی میں یا بعد میں 2020 تک خاموش کیوں رہے؟ جب معاملہ پیچیدہ ہو جائے اور شواہد کی ضرورت ہو تو ہائی کورٹ رٹ پٹیشن میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

کیس 1907 اور 1913 کے ان زمین کے انتقالات سے متعلق تھا جن پر اس وقت عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔ درخواست گزاروں کے آباؤ اجداد کے حق میں یہ انتقالات ایک صدی قبل سول کورٹ کی ڈگری پر منظور ہوئے تھے۔

Load Next Story