لاشوں کا کاروبار، انسانیت کی تضحیک
مریض بے سدھ ہے، اسے کوئی ہوش نہیں۔ اس کا نظام تنفس اس وقت مصنوعی سہاروں پر ہے اور آکسیجن لگی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اب یہاں مزید علاج ممکن نہیں تھا، لہٰذا مریض کو کسی دوسرے اسپتال ریفر کردیا گیا۔ اور یہاں سے ہی ایک تکلیف دہ سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
یہ کوئی خیالی کہانی نہیں، نہ کسی دور دراز گاؤں کا المیہ ہے اور نہ ہی کسی غیر ترقی یافتہ خطے کی تصویر۔ یہ راولپنڈی جیسے بڑے، حساس اور طبی سہولیات کے مرکز سمجھے جانے والے شہر کی ایک تلخ حقیقت ہے، جہاں دل کے مریضوں کے لیے مخصوص راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دوسرے سرکاری اسپتال تک پہنچنا، مریض کے لواحقین کے لیے ایک اعصاب شکن امتحان بن جاتا ہے۔
یہ امتحان صرف وقت کا نہیں، پیسے کا نہیں بلکہ انسان کی عزتِ نفس، بے بسی اور ریاست پر اعتماد کا امتحان ہوتا ہے، جو اکثر ناکامی پر ختم ہوتا ہے۔ ایک مریض جو اردگرد سے بے خبر ہے، حالت تشویشناک، پورا خاندان شدید اضطراب، خوف اور دعاؤں کے عالم میں کھڑا تھا۔ امیدوں کے چراغ ٹمٹما رہے تھے کہ معجزہ ہوجائے اور مریض آنکھیں کھول دے۔
ڈاکٹرز کی واضح ہدایات کہ مریض کی دوسرے اسپتال منتقلی کے دوران آکسیجن کی سہولت والی ایمبولینس لازمی ہونی چاہیے۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں تھا، نہ ہی کوئی پرتعیش سہولت کی فرمائش تھی، بلکہ یہ ایک زندگی بچانے کی بنیادی شرط تھی۔ ایسے میں سب کی نظریں اسپتال کے باہر موجود ایمبولینسز پر جا ٹھہریں، جو بظاہر مدد کے لیے تیار کھڑی تھیں۔
بظاہر تو یہ ایمبولینسیں مدد کو تیار کھڑی ہوتی ہیں اور ان پر انسانیت کی خدمت کے نعرے درج ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک مافیا ہے، ایک ایسا کاروباری مافیا جو لاشوں کا کاروبار کرتا ہے۔ اور اس مافیا کے ٹھیکیدار آپ کے اقربا کی لاشیں نوچ کھانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں مریض کی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی ریاست یا ادارے کی ذمے داری نہیں سمجھی جاتی۔ یہ ذمے داری مریض کے لواحقین کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے، چاہے مریض کی حالت کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو۔ اسپتال کے باہر کھڑی ایمبولینسز درحقیقت کسی منظم سرکاری نظام کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک غیر اعلانیہ، مگر مضبوط ایمبولینس مافیا کے زیرِ انتظام ہوتی ہیں، جہاں ہر ایمرجنسی ایک کاروباری موقع بن جاتی ہے۔ اور باقاعدہ ایک ٹھیکیداری نظام سے منسلک ہوتی ہیں۔ سونے پہ سہاگہ کہ اس کاروبار کو بھی فلاح کا نام دیا جاتا ہے۔ نہ جانے اسے فلاح کا نام دے کر کہاں کہاں، کیا کیا فائدہ حاصل کیا جاتا ہوگا۔
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے بینظیر بھٹو اسپتال کا فاصلہ بمشکل دو کلومیٹر بھی نہیں۔ یہ وہ فاصلہ ہے جو ایک عام گاڑی چند منٹوں میں طے کرلیتی ہے۔ گوگل میپس بھی اس فاصلے کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر جب بات ایمبولینس کی آئی تو یہ دو کلومیٹر اچانک ایک تگڑی ریٹ لسٹ میں تبدیل ہوگئے۔ اور یہاں سے بارگیننگ کا ایک تکلیف دہ سفر ہوتا ہے۔ دو کلو میٹر کے لیے زیادہ سے زیادہ کتنی رقم کی ادائیگی مناسب ہو گی؟ ہر ذی شعور کا جواب ہوگا کہ 1 ہزار سے 2 ہزار تک؟ لیکن یہاں مافیا کے کارندے کہیں سات ہزار کہتے نظر آئے اور کہیں چھ ہزار، یعنی گاہک کو گھیرنے کی باقاعدہ پلاننگ۔
یہاں وہ لمحہ آتا ہے جہاں انسان کو اپنی عزتِ نفس کو ایک طرف رکھ کر بارگیننگ کرنا پڑتی ہے۔ ایک طرف مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، دوسری طرف لواحقین سودے بازی میں الجھے ہوئے۔ آخرکار بڑی مشکل اور طویل بحث کے بعد چار ہزار روپے پر بات طے ہوئی۔ ذرا سوچیے، دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے کےلیے، وہ بھی ایک ایمرجنسی میں، چار ہزار روپے وصول کرنا کس حد تک غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔
بارگیننگ اس لیے بھی کرنا پڑتی ہے کہ جب مریض کو ایمرجنسی میں لایا جاتا ہے تو لواحقین پیسوں کا انتظام کرکے نہیں لا سکتے۔ اچانک آنے والے مریض کے ساتھ لواحقین بھی افراتفری میں ہی آتے ہیں۔ یہ محض پیسوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ اس سماجی رویے کی عکاسی کرتا ہے جہاں مجبوری کو کمزوری اور کمزوری کو کمائی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔
ایسے وقت میں جب انسان کا ذہن مفلوج ہوتا ہے، جب دل ہر لمحہ کسی انہونی کے خوف سے دھڑک رہا ہوتا ہے، اس وقت ریٹس پر بحث کرنا کسی ذہنی اذیت سے کم نہیں۔ مگر یہاں یہ اذیت معمول بن چکی ہے، جسے سب نے خاموشی سے قبول کرلیا ہے۔
خیر، بڑی مشکل سے مریض کو بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا، مگر بدقسمتی سے وہاں بھی حالات سازگار نہ ہوسکے۔ کبھی ڈاکٹر دستیاب نہیں، کبھی بیڈ نہیں، کبھی سہولت پوری نہیں۔ یہ سب مسائل ہمارے سرکاری اسپتالوں کی ایک الگ داستان ہیں۔ نتیجتاً فیصلہ ہوا کہ مریض کو ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا جائے، جو نسبتاً بہتر سہولیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
اب ایک بار پھر اسی ایمبولینس والے سے درخواست کی گئی کہ وہ مزید مدد فراہم کرے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ہولی فیملی اسپتال کا مجموعی فاصلہ تقریباً پانچ کلومیٹر بنتا ہے، جو کسی بھی لحاظ سے طویل یا مہنگا سفر نہیں۔ مگر یہ اضافی سفر اضافی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اور اضافی کمائی بھلا کون چھوڑے گا۔ مریض ایمبولینس میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے اور مافیا کو مزید پیسے کمانے کا موقع بھی مل گیا ہے تو بارگیننگ تو ہوگی، لہٰذا مزید مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو ہزار روپے مزید اضافی طے ہوگئے۔ وہ بھی چاروناچار کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ یوں مجموعی طور پر پانچ کلومیٹر کے سفر کے لیے سو کلو میٹر کی رقم اینٹھنے کا پلان فائنل ہوگیا۔
اس لمحے میں مریض کے ساتھ موجود لواحقین اپنے مریض کی سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کےلیے ہی جہدوجہد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ ایک مافیا کے ساتھ بھی نبرد آزما ہوتے ہیں۔ انہیں ایک طرف تو اپنے مریض کو جلد سے جلد کسی مناسب اسپتال پہنچانے کی فکر ہوتی ہے تو کہیں یہ پریشانی کہ ایمرجنسی میں رقم کا بندوبست کیسے ہوگا۔ اور یہی موقع تو ہمارے مافیاز کے لیے ایک سنہرا کاروباری لمحہ ہے۔ اور اس سے پورا فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے۔
قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ قدرت کے فیصلے انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ تمام تر کوششوں، دعاؤں اور وسائل کے باوجود مریض کا انتقال ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پورا خاندان ٹوٹ سا گیا۔ آنکھوں میں آنسو، دل میں خلا، ذہن میں بے شمار سوالات۔ مگر زندگی کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ غم کے لمحات میں بھی کچھ عملی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
اب اگلا مرحلہ میت کو احترام کے ساتھ گھر منتقل کرنے کا تھا۔ اور اس احترام کے لیے بھی دوبارہ سے اسی مافیا کے منہ تو لگنا ہی پڑتا ہے لہٰذا آپ جتنا بھی کہیں کہ یہ میت کچھ لمحے پہلے سانس لے رہی تھی اور ہمارے لیے اس کا کیا مقام ہے، اس مافیا نے اس کاروباری موقع کر ہرگز ہاتھوں سے نہیں جانے دینا۔ اور وہ لواحقین جو پہلے مریض کی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی کے لیے ترلے منتیں کر رہے تھے، اب تو ہر حال میں میت کو جلد از جلد گھر منتقل کرنا ہے۔ اور اسی لمحے وہ اس مافیا کو منہ مانگے دام دینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔
یہاں بھی ریاست غائب تھی، اور ایمبولینس مافیا پوری طرح موجود۔ ایک بار پھر ریٹس، ایک بار پھر بارگیننگ، ایک بار پھر بے بسی۔ یہ منظر کسی بھی حساس انسان کو اندر سے ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ ایک طرف لواحقین غم سے نڈھال، دوسری طرف سامنے کھڑا شخص میت کو محض ایک ٹرانسپورٹ آئٹم سمجھ کر کرایہ طے کر رہا ہے۔ یہاں نہ انسانیت نظر آتی ہے، نہ اخلاقیات، نہ ہمدردی۔ کسی کے لیے یہ لاش ہے، کسی کے لیے کمائی کا ذریعہ۔
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ فلاحی اداروں کی ایمبولینسز موجود ہیں، ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ فلاحی ادارے قابلِ تحسین خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر ایمرجنسی کے وقت ان تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔ کبھی ایمبولینس دستیاب نہیں، کبھی دیر ہو جاتی ہے، کبھی کسی اور کال پر روانہ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایمرجنسی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کے پاس انتظار کی مہلت نہیں ہوتی۔
یہاں سب سے اہم سوال ریاستی ترجیحات کا ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ماں کی اولاد لاش کی صورت میں باعزت گھر منتقلی کو ترس رہی ہوتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں مسابقت کی ایک دوڑ شروع ہے۔ ٹرانسپورٹ سسٹم ہر صوبے میں شروع کیے جانے کے دعؤوں کے ساتھ، گرین، ریڈ، اورنج، پنک اور نہ جانے کون کون سا ٹرانسپورٹ سسٹم، مکمل سبسڈی کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ اربوں کے اخراجات کے ساتھ۔ لیکن کاش کوئی ایسا منصوبہ بھی آئے کہ ہر سرکاری اسپتال میں تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ، کم از کم پانچ ایمبولینسز ہر وقت تیار ہوں۔
اگر حکومت چاہے تو ایک منظم، مربوط اور مکمل فری ایمبولینس سروس شروع کرسکتی ہے۔ ہر سرکاری اسپتال میں ایمبولینس یونٹ ہو، جہاں مریض کی منتقلی اور میت کی ترسیل ریاست کی ذمے داری ہو۔ واضح نظام ہو، تربیت یافتہ عملہ ہو، شکایات کا مؤثر طریقہ کار ہو۔ یہ سب کچھ ممکن ہے، بس نیت کی ضرورت ہے۔
اگر نئی سروس ممکن نہیں تو کم از کم موجود نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ایمبولینس مافیا کو ریگولیٹ کیا جائے، ریٹس مقرر کیے جائیں، اور اسپتال انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جائے۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے شہریوں کو ان کے کمزور ترین لمحوں میں تنہا نہیں چھوڑتا۔
اربابِ اختیار و صاحبانِ اقتدار سے بس یہی گزارش ہے کہ خدارا انسانی دکھ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیجیے۔ کسی کے پیارے کو اسپتال سے اسپتال اور پھر گھر پہنچانا کوئی کاروبار نہیں، یہ ایک انسانی ذمے داری ہے۔ اگر ہم واقعی فلاحی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں تو اس خواب کی تعبیر ایمبولینس کے دروازے سے شروع ہونی چاہیے، نہ کہ بس اسٹاپ سے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔