گہرے سمندر میں نایاب دیوہیکل جیلی فش کی دریافت، ماہرین حیران

دیوہیکل جیلی فش سطح سمندر سے تقریباً 820 فٹ نیچے دیکھی گئی اور اس کی لمبائی اسکول بس سے زیادہ ہے

ارجنٹینا کے ساحل کے قریب ہونے والی ایک سائنسی مہم کے دوران محققین نے گہرے سمندر میں پائی جانے والی ایک نہایت نایاب اور دیوہیکل جیلی فش کی شاندار ویڈیو ریکارڈ کرلی ہے۔

اس مخلوق کو ’’جائنٹ فینٹم جیلی فش‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام Stygiomedusa gigantea ہے۔ شمڈٹ اوشن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ جیلی فش سطحِ سمندر سے تقریباً 820 فٹ نیچے دیکھی گئی اور اس کی لمبائی ایک اسکول بس جتنی ہوسکتی ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نایاب جیلی فِش کے پاس ڈنک مارنے والے خیمے نہیں ہوتے، بلکہ یہ اپنے لمبے بازوؤں کی مدد سے خوراک پکڑتی ہے، جس میں پلینکٹن اور چھوٹی مچھلیاں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ساخت اور شکار کرنے کا طریقہ اسے دیگر اقسام کی جیلی فِش سے منفرد بناتا ہے۔

یہ دریافت ارجنٹینا کی قیادت میں ہونے والی سائنسی مہم کے دوران سامنے آئی، جس میں شمِڈٹ اوشن انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی جہاز آر/وی فالکر پر موجود سائنس دانوں نے بیونس آئرس کے ساحل سے لے کر ٹیئرا ڈیل فیوگو کے قریب تک ارجنٹینا کے براعظمی ساحلی حصے میں سمندری حیات کا مطالعہ کیا۔

اس تحقیق کے دوران ٹیم نے دنیا کی سب سے بڑی معلوم Bathelia candida مرجانی چٹان کو بھی دستاویزی شکل دی اور ممکنہ طور پر 28 نئی اقسام کی نشاندہی کی، جن میں سمندری خارپشت، سمندری گھونگھے، مرجان اور دیگر جاندار شامل ہیں۔

محققین نے اس کے علاوہ ملک میں پہلی بار گہرے پانی میں ’’وہیل فال‘‘ یعنی وہ مقام بھی دیکھا جہاں کسی وہیل مچھلی کی موت کے بعد اس کا جسم سمندر کی تہہ میں جا گرا ہو، جو بارہ ہزار فٹ سے زیادہ گہرائی میں موجود تھا۔

اس مہم کی سربراہ اور جامعہ بیونس آئرس سے وابستہ ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر ماریا ایمیلیا براوو کا کہنا تھا کہ انہیں ارجنٹینا کے گہرے سمندر میں اس قدر وسیع حیاتیاتی تنوع دیکھنے کی توقع نہیں تھی۔ ان کے مطابق مختلف اقسام کی حیات، ماحولیاتی نظام اور ان کے باہمی تعلقات کو ایک ساتھ متحرک حالت میں دیکھنا ناقابلِ یقین تھا، اور اس تحقیق نے ملک کی سمندری حیاتیاتی دولت پر نئی کھڑکیاں کھول دی ہیں جن میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔

Load Next Story