گہرے سمندر میں نایاب دیوہیکل جیلی فش کی دریافت، ماہرین حیران
ارجنٹینا کے ساحل کے قریب ہونے والی ایک سائنسی مہم کے دوران محققین نے گہرے سمندر میں پائی جانے والی ایک نہایت نایاب اور دیوہیکل جیلی فش کی شاندار ویڈیو ریکارڈ کرلی ہے۔
اس مخلوق کو ’’جائنٹ فینٹم جیلی فش‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام Stygiomedusa gigantea ہے۔ شمڈٹ اوشن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ جیلی فش سطحِ سمندر سے تقریباً 820 فٹ نیچے دیکھی گئی اور اس کی لمبائی ایک اسکول بس جتنی ہوسکتی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نایاب جیلی فِش کے پاس ڈنک مارنے والے خیمے نہیں ہوتے، بلکہ یہ اپنے لمبے بازوؤں کی مدد سے خوراک پکڑتی ہے، جس میں پلینکٹن اور چھوٹی مچھلیاں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ساخت اور شکار کرنے کا طریقہ اسے دیگر اقسام کی جیلی فِش سے منفرد بناتا ہے۔
یہ دریافت ارجنٹینا کی قیادت میں ہونے والی سائنسی مہم کے دوران سامنے آئی، جس میں شمِڈٹ اوشن انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی جہاز آر/وی فالکر پر موجود سائنس دانوں نے بیونس آئرس کے ساحل سے لے کر ٹیئرا ڈیل فیوگو کے قریب تک ارجنٹینا کے براعظمی ساحلی حصے میں سمندری حیات کا مطالعہ کیا۔
DEEP-SEA SIGHT: Researchers found a massive jellyfish that they said could grow as large as a school bus during a deep sea expedition off the coast of Argentina.
Video from the Schmidt Ocean Institute shows the Phantom Jelly as it swam 820 feet below the ocean's surface. pic.twitter.com/Vx6XZ9wvKV— Fox News (@FoxNews) February 4, 2026
اس تحقیق کے دوران ٹیم نے دنیا کی سب سے بڑی معلوم Bathelia candida مرجانی چٹان کو بھی دستاویزی شکل دی اور ممکنہ طور پر 28 نئی اقسام کی نشاندہی کی، جن میں سمندری خارپشت، سمندری گھونگھے، مرجان اور دیگر جاندار شامل ہیں۔
محققین نے اس کے علاوہ ملک میں پہلی بار گہرے پانی میں ’’وہیل فال‘‘ یعنی وہ مقام بھی دیکھا جہاں کسی وہیل مچھلی کی موت کے بعد اس کا جسم سمندر کی تہہ میں جا گرا ہو، جو بارہ ہزار فٹ سے زیادہ گہرائی میں موجود تھا۔
اس مہم کی سربراہ اور جامعہ بیونس آئرس سے وابستہ ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر ماریا ایمیلیا براوو کا کہنا تھا کہ انہیں ارجنٹینا کے گہرے سمندر میں اس قدر وسیع حیاتیاتی تنوع دیکھنے کی توقع نہیں تھی۔ ان کے مطابق مختلف اقسام کی حیات، ماحولیاتی نظام اور ان کے باہمی تعلقات کو ایک ساتھ متحرک حالت میں دیکھنا ناقابلِ یقین تھا، اور اس تحقیق نے ملک کی سمندری حیاتیاتی دولت پر نئی کھڑکیاں کھول دی ہیں جن میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔