عمان میں امریکا ایران مذاکرات ختم؛ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا

مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر مرکوز ہوں گے

امریکا اور ایران کے درمیان آج مذاکرات کے دو دور ہوئے جس میں فریقین نے عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا ایران جوہری مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے کے بعد فی الحال ختم ہوگئے اور آئندہ کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

یہ مذاکرات براہِ راست نوعیت کے ہوئے جس میں پاکستان سمیت کسی تیسرے ملک نے بطور ثالث شرکت نہیں کی۔

مذاکرات میں ایران کی نمائندگی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکا کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر مرکوز ہوں گے جبکہ مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان بیانات، اور عالمی دباؤ کے باعث ایک بار پھر سفارتی رابطوں کی کوششیں تیز ہوئیں۔

مسقط میں ہونے والے یہ مذاکرات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھے جا رہے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Load Next Story