اسلام آباد خودکش دھماکا، حملہ آور فائرنگ کر کے مسجد کے ہال تک پہنچا، ابتدائی شواہد
فوٹو رائٹرز
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع خدیجہ الکبریٰ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے کیس کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد جمع کر لیے جس میں نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی اور پھر ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
حملہ آور نے4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں جن کے خول بھی جائے وقوعہ سے مل گئے ہیں۔
قبل ازیں تفتیشی ذرائع نے بتایا تھا کہ خود کش حملہ آور کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی جو پشاور کا رہائشی ہے اور اس کی پانچ ماہ کی افغانستان و پاکستان کے درمیان سفر کرنے کی تفصیلات بھی ملی ہیں۔
حملہ آور کے شناختی کارڈ پر درج پتے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مار کر 4 قریبی رشتے داروں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد خود کش دھماکے میں کمسن بچوں سمیت 32 افراد شہید جبکہ 162 زخمی ہوئے جن میں سے 29 کی حالت تشویشناک ہے۔