افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ

افغان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے شفافیت دفن کر دی ہے

امیر طالبان کا نیا حکم نامہ سامنے آگیا

اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر ہے جس سے سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان رجیم کے ترجیحات دہشتگردوں کی حمایت و سرپرستی پر مرکوز ہے۔

افغان طالبان کی پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو زمین بوس کر دیا، افغان طالبان رجیم کےمستحکم معیشت و سرمایہ کاری کے غیر حقیقی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افغان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے شفافیت دفن کر دی ہے، سالانہ 5 ارب ڈالر (غیر قانونی) ہوالہ ہنڈی میں جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

مزید برآں افغان رجیم کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث بینکنگ رسائی انتہائی محدود ہے، صرف 6 فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق دہشتگردی کی سرپرستی کے سہارے کوئی معیشت نہیں چل سکتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کو دہشتگرد گروہوں کی حمایت ترک کر کے فوری طور پر افغانستان کی بگڑتی معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دینا ہوگی۔

Load Next Story