اسلام آباد: جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر ایمان مزاری کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا

متنازع ٹویٹس کیس میں سزا کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی

جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر ایمان مزاری کو انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش نہ کیا گیا جب کہ متنازع ٹویٹس کیس میں سزا کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، پولیس کیجانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ایمان مزاری اور ہادی علی کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا۔ 

عدالت نے ایمان مزاری کو آئندہ سماعت پر بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، ایمان مزاری ودیگر کیخلاف پولیس کیساتھ لڑائی جھگڑے اور تشدد کا الزام ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حد تک سماعت 19 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری جانب متنازع ٹویٹس کیس میں سزا کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ چیلنج کیا ہے۔ اپیل میں 24 جنوری کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ کیس کی ٹرانسفر کی درخواست ہائیکورٹ میں زیر التوا ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دے دیا، جو کہ قانونی طور پر جائز نہیں تھا۔

اپیل میں کہا گیا کہ حق دفاع ختم کرکے ٹرائل کورٹ نے شفافیت کو نظر انداز کیا۔ ایک اسٹیٹ کونسل نے سوالات پہلے سے بتائے جانے کی شکایت کی تو عدالت نے تحقیقات نہیں کرائیں۔

اپیل میں مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ جاتے ہوئے گرفتاری کے وقت تشدد کیا گیا اور ویڈیو لنک حاضری کے دوران عدالت نے تشدد کے الزام کا کوئی جائزہ نہیں لیا۔

بغیر فائل کے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے جرح بھی ممکن نہیں تھی۔ اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

Load Next Story