’’یہ جو دہشت گردی واپس آئی ہے، اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے‘‘  وفاقی وزیر اطلاعات

آج ہم طالبان خان کی سوچ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، عطا اللہ تارڑ کا علما کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور:

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں جو دہشت گردی واپس آئی ہے، اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے۔

علما کے ساتھ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ  میں اظہار یکجہتی  کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو لوگ اسلام آباد میں افسوس ناک واقعے کے ذمہ دار ہیں، انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو اللہ کی عبادت میں  مصروف تھے انہیں نشانہ بنایا گیا  کیوں کہ ان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔ میں پوری ریاست کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ تمام مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مراکز کی سیکیورٹی کے کیے پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم ان دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ مضافات میں واقعہ ہونا افسوس ناک ہے لیکن یہ سیکیورٹی فیلیئر نہیں ہے۔ ہمیں متحد ہوکر اس سوچ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا  کہ ہماری سیکیورٹی فورسز کے پاس تمام تر مہارت موجود ہے، جس سے وہ مقابلہ کررہی ہیں اور کرتی رہیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میں یہاں سیاسی بات کرنا نہیں  چاہتا تھا مگر آپ کو یاد ہوگا کہ ایک آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب بھی ہوا تھا ، آپ کو یاد ہوگا کہ خودکش حملے ختم ہو گئے تھے، کراچی کا امن بھی بحال ہوگیا تھا۔ پھر ایک حکومت آئی، جب کسی نے یہ کہا تھا کہ یہ پرامن لوگ ہیں، ہمارے بھائی ہیں، ہمیں ان سے بات چیت کرنی چاہیے اور انہیں سیٹلڈ ایریاز میں لاکر بسایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی سوچ نے، جو طالبان خان کی سوچ تھی، اسی سوچ کا آج خمیازہ بھگت رہے ہیں۔  ہم نے تو دہشت گردی کا خاتمہ کردیا تھا۔ اب یہ جو دہشت گردی واپس آئی ہے، اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہارڈ ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیت دہشتگردوں میں ختم ہو چکی ہے۔ اسی لیے وہ دور دراز یا مضافاتی علاقوں میں سافٹ ٹارگٹ تلاش کرتے ہیں اور ان کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں ۔ ہم مزید سخت اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ دہشتگردوں کا پیچھا کریں گے، ان کو چھوڑیں گے نہیں ۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد واقعے کے حوالے سے کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پیغام امن کمیٹی کا مقصد ملک میں ہم آہنگی کا فروغ اور دہشت گردانہ نظریات کا خاتمہ ہے۔ اس کمیٹی میں تمام مکاتب فکر سے نمائندگی موجود ہے۔ ملک میں فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دہشت گرد چند کوڑیوں کی خاطر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وزیر داخلہ کو مکمل ہدایت دی ہے۔

Load Next Story