کیا پاکستان میں ڈمی مدارس اور دینی بورڈز ہیں؟ ( دوسرا حصہ)

یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ تقریباً ہرحکومت نے دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی

حالانکہ اسی دور میں پاکستان کے دیگر بڑے اور معروف دینی ادارے بھی موجود تھے، لیکن ان اداروں کو اس مرحلے پر براہ راست منظوری کیوں نہ مل سکی، یا انھوں نے اس سمت میں پیش رفت کیوں نہ کی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اپنی جگہ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے، تاہم تحریرکی طوالت کے پیش نظر اس پر مزید گفتگو فی الحال مناسب نہیں۔
چند برس بعد یہی سلسلہ مزید وسعت اختیارکرتا ہے۔ تقریباً پانچ سال بعد جماعت اسلامی کے امیر پاکستان کی جانب سے جنرل ضیا الحق کو ارسال کی گئی درخواست کے نتیجے میں 12 اگست 1987 کو دینی مدرسہ بورڈ ’’رابطۃ المدارس الاسلامیہ‘‘ کو بھی سرکاری فہرست میں منظوری حاصل ہوئی اور یوں یہ وفاق بھی UGC کی فہرست میں شامل ہوگیا۔

اس طرح پانچ دینی وفاقات ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت سرکاری دائرہ کار میں آچکے تھے۔ بعد ازاں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں 27 اپریل 1992کو ڈاکٹر طاہر القادری کا ادارہ جامعہ اسلامیہ ’’ منہاج القرآن لاہور‘‘ کو بھی اسی سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

تاہم زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ رہے۔ ان پانچ معروف وفاقات کے اندر بھی مختلف علاقوں، خصوصاً مردان، چارسدہ، پشاور، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بعض حصوں کے مدارس کی جانب سے اپنے ہی وفاق کے نصابی، امتحانی اور انتظامی امور پر تحفظات سامنے آتے رہے۔

انھی خدشات کے باعث بعض مدارس خاموشی سے وفاق المدارس العربیہ سے الگ ہو کر ایک غیر اعلانیہ وفاق ’’ اتحاد المدارس‘‘ میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح دعوت و تبلیغ کے مرکز سے وابستہ پنجاب کے مدارس اور پنج پیر صوابی میں جامعہ الامام محمد طاہر پنج پیر کے بھی ہزاروں مکاتیب اور مدارس بھی کبھی وفاق المدارس العربیہ کا حصہ نہ بنے اور ابتدا سے ہی اپنا علیحدہ نظم قائم رکھا تھا جو اب تک جاری و ساری ہے۔

دوسری طرف جامعہ غوثیہ بھیرہ شریف بھی علیحدہ سے اپنا تعلیمی امتحانی نظام چلاتی رہی، جب کہ وفاق المدارس السلفیہ سے الگ ہوکر ’’جماعۃ دعوہ‘‘ کے مدارس بھی اپنے نظم میں فعال رہے۔ اسی طرح تنظیم المدارس اور وفاق الشیعہ کے بھی بعض مدارس میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے تھے۔

یہاں تک کہ جماعت اسلامی ’’ رابطۃ المدارس‘‘ کے بھی چند مدارس پر مشتمل ’’سید مودودی انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے نام سے علیحدہ ہو کر 2001 میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق بھی کیا تھا۔

یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پانچ معروف وفاقات کے علاوہ بھی پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں مکاتیب اور مدارس مختلف سطحوں پر منظم انداز سے اپنا تعلیمی نظام پہلے سے چلا رہے تھے۔

جب کہ ان پانچ معروف وفاقات کے اندر رہتے ہوئے بھی، ان کے اپنے کچھ مدارس اپنے ہی وفاق کی پالیسیوں سے اختلاف ضرور رکھتے تھے، مگر نظم وضبط اور اجتماعی وابستگی کے باعث خاموشی اختیارکیے رہے۔ جس کے نتائج آگے چل کر واضح ہوئے۔

یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ تقریباً ہرحکومت نے دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی، تاکہ انھیں قانونی طور پر قومی تعلیمی اعداد و شمار کا حصہ بنایا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت 2005، 2010، 2016 اور 2019 میں پانچ معروف وفاقات کے ساتھ مختلف تحریری معاہدات بھی پائے جاتے رہے۔

تاہم کبھی حکومتی پالیسیوں کی کمزوری اور لاعلمی غالب رہی اور کبھی دینی وفاقات کی جانب سے بعض اہم وجوہ کے باعث معاہدات اپنی اصل روح کے مطابق مکمل نافذ نہ ہو سکے۔

البتہ تمام معاہدات کے ضمن میں ایک مثبت پیش رفت یہ ضرور ہوتی رہی کہ مدارس کے ابتدائی درجات میں عصری علوم کا آغاز کردیا گیا اور میٹرک تک کی تعلیم پر عمل درآمد شروع ہوا، جو دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا سکتا ہے۔

جب کہ ماضی بعید میں بعض اہل علم کی جانب سے مدارس میں دینی علوم کے ساتھ، عصری علوم کی آمیزش کو خدشات کا باعث اور غیر متوازن بھی قرار دیا جاتا رہا تھا۔

یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی کی علمی بصیرت اور سنجیدہ کاوشوں کے نتیجے میں حکومتی سطح پر ’’ پاکستان مدرسہ ایجو کیشن بورڈ‘‘ کا قیام عمل میں آیا، جس میں ملک کے پانچوں معروف دینی وفاقات کی نمائندگی کو بھی شامل رکھا گیا تھا۔

اس بورڈ کا بنیادی مقصد مدارس اور ریاست کے درمیان ایک منظم، باوقار اور قابل قبول رابطہ قائم کرنا تھا، تا کہ دینی تعلیمی اداروں کو قومی تعلیمی دھارے میں لاتے ہوئے کسی تصادم کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

تاہم جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں اختیار کی گئی بعض پالیسیوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر اس بورڈ کی مزاحمت سامنے آئی۔ اس مخالفت نے محض نظری اختلاف کی صورت اختیار نہیں کی بلکہ عملی طور پر ایک منظم محاذ کی شکل اختیار کر گئی۔

چنانچہ 2005 میں ان پانچوں وفاقات نے مشترکہ طور پر ایک سیاسی و تنظیمی اتحاد ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ قائم کر لیا، جس کا مقصد ریاستی پالیسیوں کے مقابل ایک متحد موقف اختیارکرنا تھا۔اسی سیاسی کشمکش اور عدم اعتماد کی فضا کے باعث پاکستان مدرسہ ایجو کیشن بورڈ تقریباً چودہ برس تک وہ مؤثر کردار ادا نہ کر سکا جس کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔

مختلف ادوار میں آنے والی مذہبی و سیاسی حکومتوں کی وقتی مفاہمتی حکمت عملی، ریاستی اداروں کی عدم دلچسپی اور مسلسل پالیسی عدم تسلسل نے اس بورڈ کو جامع اور دور رس نتائج تک پہنچنے سے محروم رکھا۔ یوں ایک ایسا ادارہ، جو دینی مدارس اور ریاست کے درمیان پل بن سکتا تھا، طویل عرصے تک عملی اثر پذیری سے دور رہا۔

تاہم اس جمود کے باوجود ایک اہم پہلو قابل ذکر ہے۔ 2014 میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے باضابطہ اوپن میرٹ پر جو پہلے چیئرمین منتخب ہوئے تھے، انھوں نے مدرسہ بورڈ کو فعالیت کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں کیں تھیں۔

انھوں نے پانچ وفاقات کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم ان ہزاروں دینی مدارس (وفاق وحدت المدارس پنج پیر، وفاق اتحاد المدارس مردان، وفاق الجامعات منڈی بہاؤالدین، جمعیت اشاعت توحید والسنہ جنوبی پنجاب، تبلیغی جماعت، جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی، جامعہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی و دیگر مدارس) کے ذمے داران سے براہ راست ملاقاتیں کیں اور باہمی رضامندی کے بعد، انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بورڈ کے اجلاس سے باقاعدہ منظوری بھی حاصل کی۔

تاہم ان کی کوششوں کے سامنے بھی وہی پرانی انتظامی، سیاسی اور پالیسی سطح کی رکاوٹیں حائل رہیں، اس کے باوجود وہ تمام کوششیں سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن گئیں، جو اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اصلاح اور مفاہمت کی سنجیدہ سعی ایک مرحلے پر ضرور کی گئی تھی، اگرچہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک نہ پہنچ سکی۔ (جاری ہے۔)

Load Next Story