پڑھو گے، لکھو گے، بنو گے نواب … لیکن کیسے؟
غریب اور متوسط طبقے کے مسائل پہلے ہی کیا کم تھے کہ رہی سہی کسر ہمارے Confused تعلیمی نظام نے، بالخصوص والدین کو نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا کر کے پوری کردی،کیسے؟ وہ ایسے کہ ’’ بچوں کا داخلہ کہاں کروائیں،کہاں نہیں‘‘۔
آج کل کے پریشان ترین مسئلوں میں سے ایک ہے،کافی دوڑ دھوپ اور چھان پھٹک کے بعد حاصل ہونے والی ناکامی بالآخر،گھر سے قریب والے اسکول کے حق میں فیصلہ کروا ہی لیتی ہے۔ نئے سال کے آغازکے ساتھ ہی اسکولوں میں داخلوں کا آغاز بھی بس اب ہوا ہی چاہتا ہے۔
اب ہمارے یہاں کے اسکولوں کی Categories سے تو آپ سب لوگ اچھی طرح واقف ہی ہیں، کچھ تو ایسے ہیں کہ جہاں غریب والدین کے لیے اپنے بچوں کا داخلہ بس ایک خواب ہی ہے، بھئی! یہ خواب ہی توکہلائے گا کہ بالفرض ایک ایسا شخص جس کی تنخواہ 30 یا 40 ہزار روپے ماہوار ہو تو پھر اُس کے لیے 15 سے 20 ہزار کے درمیان ہر ماہ ادا ہوتی شاندار اسکولوں کی فیس کا بوجھ اُٹھانا کیونکر ممکن ہو سکے گا۔
اور اگر والدِ محترم خالصتا مزدوروں والی کمائی کما رہے ہو ں تو پھر تو اُن کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ ’’پیلے‘‘ کا لیبل چپکائے کسی سرکاری اسکول میں چُپ چاپ کروا آئیں۔ غریب والدین چاہتے تو ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے اور معیاری اسکولوں میں تعلیم دلوائیں، لیکن بیچارے بس ایک ٹھنڈی ’’آہ‘‘ بھر کر ہی رہ جاتے ہیں۔
نفسیاتی الجھنوں کی وضاحت کے بعد اب بات ہوجائے درمیانے درجے پر فائز اسکولوں کی، یہ اسکول کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں، ان کی فیس اگرچہ کہ بہت کم نہیں، تو بہت زیادہ بھی نہیں ہوتی ہے، لیکن داخلے کے لیے دل، وہاں بھی نہیں مانتا۔
وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے اسکول بظاہر دیکھنے میں تو صاف ستھرے ، سرسبز و شاداب، کشادہ اور آرام دہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن جب تعلیمی معیارکے حوالے سے ان کا جائزہ لیا جائے تو نتائج مایوس کنُ ہی نکلتے ہیں،چند بڑی وجوہات میں سے ایک کم تنخواہوں پر اساتذہ کی بھرتیاں ہیں۔
قابل ٹیچرزکی دستیابی تنخواہوں کی مد میں مختص کیے گئے مختصر ترین بجٹ سے بھلا کیونکر ممکن ہوسکے گی، پھر تنخواہوں ہی کے چکر میں ٹیچرزکی ایک اسکول سے دوسرے اسکول میں تواتر سے ہوتی Switching بھی ’’ تسلسل‘‘ سے جڑ ے معیارکو نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔
خیر، پھر جنابِ عالیٰ باری آتی ہے گلی، محلوں، بلڈنگوں اورکالونیوں میں کھُلے اسکولوں کی۔ یہ اسکول جیسے بھی ہوں اُن والدین کے لیے تو راحت کا سامان کیے رکھتے ہیں کہ جن کے لیے فاصلے اور دُوریوں پر حاصل ہوتی تعلیم (آج کل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے) غیر محفوظ اور جیب پر ایک بھاری بھرکم بوجھ تصورکی جاتی ہے۔
ہر بڑے شہر میں چار، چھ اسکول ایسے بھی ہوتے ہیں جو والدین کی مطلوبہ ضروریات پر پورا اترتے نظر آتے ہیں، لیکن وہاں مسئلہSeats کا آجاتا ہے۔ ایسے اسکول ہوتے ہی گنتی کے ہیں کس،کس کو اپنے اندر سموئیں گے، جب بھی کہیں ان اسکولوں کا ذکر آتا ہے تو مجھے آذر اور زینا یاد آجاتے ہیں۔
دونوں میرے اچھے دوست ہیں اور آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔ جن دنوں کراچی میں تھے تو اپنی بیٹی کے ایڈمیشن کے لیے بہت پریشان تھے،آذرکی والدہ پرانے خیالات کی حامل بہت جہاندیدہ خاتون تھیں۔ چھوٹی تو نہیں، البتہ بڑی کلاسوں میں لڑکے اور لڑکیوں کے کافی ’’ قصے‘‘ سن اور دیکھ رکھے تھے۔
کہتی تھیں کہ پوتی کو کسی صورت Co-Education والے اسکول میں نہیں پڑھوانا۔ بیٹی کے ایڈمیشن کے لیے میں نے بالخصوص آذرکو بہت پریشان اور فکر مند دیکھا تھا، ماں، باپ پرائیویٹ اسکول میں تعلیم دلوانے کی پوزیشن میں نہیں تھے، اس لیے آذر نے ایک سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔
تعلیمی دور میں A سے pple A اور B سے Ball کافی سالوں بعد اس وقت نظروں کے سامنے آئے تھے کہ جب چڑیا (تقریبا) سارا ہی کھیت چُگ چُکی تھی۔کمپیوٹرکا نام ونشان تو خیر سے پورے تعلیمی کیریئر میں کہیں تھا ہی نہیں، آذرکے اسکول میں دی جانے والی تعلیم کیونکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مطلوبہ عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اسی لیے زندگی کے ہر موڑ پر،کہیں نہ کہیں اس کے اثرات کا سامنا رہا۔
خاص طور سے جدید تقاضوں اور عالمی معیارکے حامل، نئے دورکے پیشہ وارانہ ماحول میں سنبھل، سنبھل کر اپنی جگہ بناتے کافی وقت لگ گیا تھا اُسے ۔
یہی وجہ تھی کہ آذر اور زینا کو بھی، تلاش ایک ایسے اسکول کی تھی کہ جہاں فیس کم ہو، مخلوط تعلیمی نظام کا حامل نہ ہو، نامور ہو اور سب سے بڑھ کر،جہاں انگریزی بھی فر فر بولی جاتی ہو۔
کافی تلاش کیا پھر ان کی نظروں کو پورے شہر میں ’’دو‘‘ اسکول ہی ایسے دکھے جو ان کی خواہشات اور ضروریات پر پورا اُتر رہے تھے۔ آذر وہاں سے رجسٹریشن فارم لے آیا تھا، خوب زور و شور سے تیاریاں جاری تھیں، دونوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی تھی، ٹیسٹ کی تیاری کے لیے بیٹی نے ایک بہت ہی عمدہ سینٹر میں جانا شروع کردیا تھا۔
لیکن پھر قسمت کوکچھ اور ہی منظور تھا،کچھ عرصے بعد ہی وہ لوگ ملک چھوڑ چکے تھے، بچے اب کینیڈا کے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ اسکولوں کا احوال تو کافی حد تک آپ لوگوں نے جان لیا۔ اب مسئلہ مسائل کے حل کی تلاش ہے… ہونا کیا چاہیے؟
سب سے پہلے تو تعلیمی اداروں پر لگا کرپشن کا بدنما داغ دھلنا چاہیے،تاکہ بدعنوانیوں کی فہرست میں سرفہرست دکھنے والا یہ مقدس پیشہ اُس خراب جگہ سے ہٹ کر اپنا معتبر مقام حاصل کر سکے، پھر اُس کے بعد زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا تو اربابِ اختیار صرف اتنی مہربانی ہی کردیں کہ موجودہ منظر نامے کو پلٹا دیں۔
یعنی سرکاری اسکول ایسے بنا دیے جائیں کہ پھر وہاں والدین کی طویل قطاریں لگی نظر آئیں، ہر شخص حکومتی سرپرستی میں چلنے والے اسکولوں میں داخلے کا خواہشمند ہو، وہاں سیٹس کا مسئلہ درپیش آئے تو پھر والدین ( بہ حالتِ مجبوری) پرائیویٹ اسکولوں کا رخ کریں ، بس اتنا کر لیں پھر اثر دیکھیں، فوائد شرطیہ اورگارنٹڈ ہوں گے۔