پسماندہ بلوچستان

ہم نے کالعدم ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا جواب دے دیا اور ایسا کرنے سے اس دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی

Jvqazi@gmail.com

بلوچستان کے معاملات کو اب غیر روایتی زاویے سے دیکھنا ہوگا۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات جو 30 اور 31 جنوری کو رونما ہوئے ،وہ بہت بڑے واقعات تھے ،جو اب تک کالعدم ٹی ٹی پی یا پھر کالعدم BLA نے کیے ہیں اور یہ دہشت گردی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب پورے خطے میں تناؤ ہے۔

امریکا کسی بھی وقت ایران پر حملہ کر سکتا ہے اور اس حملے میں اسرائیل اس کا اتحادی ہوگا۔بلوچستان میں دہشت گردی کی کڑیاں ان قوتوں سے جڑتی ہیں جو یقینا پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے ۔لیکن کیا وجہ ہے کہ یہ دہشت گردی کا سلسلہ دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

ہم نے کالعدم ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا جواب دے دیا اور ایسا کرنے سے اس دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی۔افغانستان سے جب تک ٹی ٹی پی کو امداد ملتی رہے گی، اس دہشت گردی کی شدت میں کمی نہیں آئے گی۔

بلوچستان میں غربت و افلاس اور دیگر محرومیاں ، پاکستان کے دوسرے صوبوں کی بہ نسبت زیادہ ہیں۔پھر حکومتی نا اہلی بھی بلوچستان میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ بلوچستان سماجی اعتبار سے بھی ایک پسماندہ صوبہ ہے۔

بلوچستان کی ٹوٹل آبادی کی دو بڑی اکائیاں بلوچ اور پشتو بولنے والے پشتون قدم قبائلی سسٹم میں بٹے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی پولیس، نہ کمشنر، نہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ، نہ محمکمہ ٹیکس نہ یونین کونسلز۔ عوام قبائلی مشران اور سرداروں اور ان کے مسلح محافظوں کے رحم و کرم پر زندہ ہیں۔

مختصر یہ کہ یہ پاکستان کا ایک انتہائی پسماندہ صوبہ ہے۔انھیں زمانوں میں اگر ہم نے فطری انداز میںسرداری اور قبائلی نظام کا خاتمہ کیا ہوتااور تعلیم کو عام کیا ہوتا، صنعتوں کا جال بچھایا جاتا اور انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا ہوتا، سرکاری اداروں کی رسائی گراس روٹ لیول تک کی ہوتی تو اب تک بلوچستان میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہوتا۔

ورلڈ بینک کے صدر حال ہی میں جب پاکستان کے دورے پر تھے تو ان کا کہنا تھا کہ ہر سال پاکستان کو پچیس سے تیس لاکھ تک روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوںگے۔آیندہ دس سال میں تین کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوںگی بہ صورت دیگر یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ یہ نوکریاں کیسے پیدا ہوںگی؟اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ پاکستان کی جب شرح نمو بڑھے گی تو اتنے ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے اور نوکریوں کی گنجائش پیدا ہوگی۔ایسی صورتحال کا گہرا تعلق ہمارے سیاسی ڈھانچے سے ہے۔

صوبوں کی حکومتوں پر بھی صوبائی سطح پر روزگار پیدا کرنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے، اسمال بزنس، تعمیراتی شبعہ اور زراعت کو ترقی دینا صوبائی بزنس ہے۔گراس روٹ لیول پر سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والے یہی سیکٹرز ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد جو اختیارات ، محکمے اور شعبہ جات صوبوں کے پاس ان کے حوالے سے وفاق پر انگلی اٹھانا، مکارانہ سیاست کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اس وقت سندھ میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری مزید مضبوط ہوئی ہے۔

بلوچستان قیام پاکستان کے بعد سے ہی بحران کا شکار رہا۔ پاکستان کے ابتدائی تیرہ سال بعد ہی ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔ ایوب خان کے آمرانہ دور میںجس قلات اسمبلی نے 1948 میں ، پاکستان میں شامل ہونے کی قرارداد پاس کی، نواب نوروز اس اسمبلی میں سب سے بڑے سرداری خاندان سے تھے لیکن انھیں اوران کے بیٹوں کو سولی پر چڑھایا گیا۔

یہاں سے شروع ہوتا ہے بحران ہے۔ بھٹو نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت کا خاتمہ کیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ایران میں بسنے والے بلوچی ، شہنشاہ ایران کے مخالف تھے۔اب بھی ایران اور پاکستان کی سرحدوں سے وہاں سے یہاں اور یہاں سے وہاں آسانی سے آیا اور جایا جا سکتا ہے۔

ایران سے پٹرول لایا جاتا ہے۔ اسمگلنگ کی جاتی ہے۔ آر پار سرحدوں کا سیکیورٹی عملہ اس اسمگلنگ میں اپنا حصہ لیتے ہیں۔ بلوچستان میں تمام پٹرول پمپس پر ایرانی پٹرول کی فروخت ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح فغانستان میں مضبوط اور ماڈرن سماجی قدروں کا فقدان ہے جو پاکستان کے اندر مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

1980کی دہائی سے افغانستان کے اندر اس صورتحال نے پاکستان کے اندرونی حالات کو بے حد متاثر کیا ہے۔پاکستان کے اندر سماجی صورتحال متاثر ہوئی،ہماری سیاسی سوچ کو متاثر کیا گیا۔ ہمارے مسائل ہندوستان کی سرحدوں پر بھی ہیں مگر وہاں کی سماجی قدریں، سرداری اور قبائلی نہیں، وہاں ہندو انتہا پرستی ہے لیکن ان انتہا پرستوں کے پاس ہتھیار نہیں ہیں۔

ایران اور افغانستان کی بہ نسبت پاکستان میں جمہوری قدریں مضبوط اور ماڈرن ہیں اور پاکستان میں اگر کہیں انتہا پرست پنپتی ہے تو وہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہے۔ سال 2003 میں نواب اکبر بگٹی کا میں نے انٹرویو کیا تھا، بلوچستان جا کر۔اس انٹرویو کے بعد میری نواب صاحب سے دوستی ہو گئی تھی اور روزانہ کچھ منٹوں کے لیے ان سے فون پر بات چیت ہوتی تھی۔

میں نے ڈیرہ بگٹی میں چر بھیلی کی رسم بھی دیکھی جس میں ملزم کو آگ سے گزارا جاتا ہے اور اگر اس شخص کے پاؤں آگ میں جھلس جائیں تو اس کو ملزم قرار دے دیا جاتا ہے۔نواب بگٹی کو انگریزی اور تاریخ پر عبور حاصل تھا۔ان کی اس مہارت کو دیکھتے ہوئے میں ان کا مداح ضرور بنا لیکن اس بات کو میں نے ضرور جان لیا کہ یہ لوگ اگر ترقی کرلیں، شرح ناخواندگی اگر کم ہو جائے تو نواب صاحب کی سرداری کہاں جائے گی؟

دراصل بلوچستان اندر سے آزاد نہیں۔بلوچستان کی پشتو بیلٹ اور بلوچ بیلٹ قدیم نظام کی قیدی ہے ۔ بلوچ علاقوں میں قوم پرستی کی تحریک دراصل سرداری نظام کے خلاف ہے اور چونکہ ان کا بیانیہ علیحدگی پسند ہے تو بلوچ سردار کو چیلنج نہیں کرتے اور دوسری طرف وفاق ان سرداروں کے ساتھ اتحاد بنانے پر مجبور ہے کیونکہ قوم پرست بھی سرداروں کے خلاف اٹھنے پر تیار نہیں ہیں۔

یوں سب مل کر بلوچستان کے عوام کو معاشی بدحالی کی طرف گھسیٹ رہے ہیں اور اسی روش سے بلوچستان پسماندہ سے پسماندہ تر رہ گیا۔بلوچستان میں اگر کہیں ترقی ہو رہی ہے جیساکہ گوادر وغیرہ تو وہاں پر باہر سے آئے ہوئے مزدور اور مڈل کلاس طبقہ مستفیض ہو ئے ہیں نہ کہ بلوچ یا مقامی لوگ۔

بلوچستان کو ڈاکٹر مالک اور اختر مینگل جیسے لوگوں کی ضرورت ہے جو پاکستان کے تناظر میں بلوچستان کے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں لیکن کیا کریں ، کہ اب وہ خود ایک ایسے بیانیے کا شکار ہیںجس میں وہ اپنا سیاسی توازن برقرار نہیں رکھ سکے۔

پاکستان کے وجود کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ہمارا بیانیہ یکطرفہ ہے اور اس میںکوئی گنجائش نہیں کہ ہم اختلاف رائے رکھنے والوں کو سن سکیں۔پاکستان کواندرونی خطرات ہیں اور دشمن اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور پھر تضادات کو ہوا دی جاتی ہے۔پاکستان اور بلوچستان کا اہم مسئلہ بے روزگاری ہے جو اب سات فیصد تک پہنچ چکی ہے اور بلوچستان میں یہ شرح بیس فیصد سے زیادہ ہوگی۔

Load Next Story