جب برطانیہ نو آبادیاں قائم کر رہا تھا، اسکے اپنے ملک میں جمہوری ادارے جڑ پکڑ رہے تھے

انگلستان میں سائنس کی ترقی کے عہد میں ہندوستان محلاتی سازشوں میں گھرا ہوا تھا، نو آبادیاتی نظام کی تاریخ پر معلوماتی سلسلہ

قسط نمبر ۔2

کولمبس کے 1492 ء میں امریکہ دریافت کر نے کے بعد تقریباً سو برسوں میں یورپی اقوام ’جن میں ہسپانوی ، اطالوی ولندیزی ،فرانسسی اور برطانوی شامل ہیں‘ نے یہاں اپنی اپنی آبادیا ں قائم کر لیں تھیں۔ یہ ایشیا اور افریقہ اور کسی حد تک مشرقی یورپ کے باشندوں کے مقابلے میں زیادہ مہم جو تھے۔ یہ مہم جوئی اُن کی بحریہ کے حوالے سے بھی اہم تھی۔

اِن یورپی اقوام میں بر طانیہ یعنی انگریز نہ صرف بحری قوت کے اعتبار سے برتر تھے، بلکہ اِ ن کے ہاں 1215 ء میں میگنا کار ٹا جیسے سیاسی معاہد ے کے وجود میں آجا نے کی بنیاد پر قومی سطح کے فیصلے ہاؤ س آف لارڈرز میں کئی معاملہ فہم افراد کی مشاورت سے ہو تے تھے، جس کی وجہ سے باقی یورپ کے مقابلے میں انگریز سائنس ٹیکنالوجی کے ساتھ منطق و فلسفے، سوشیالوجی اور ادب میں بھی زیادہ ترقی کرگئے تھے۔

انگر یز عقل و دانش اور معاملہ فہمی فکر فراست کے ساتھ باہمی مشاورت سے کام کر نے کے عادی تھے، حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ہنر کو دوسری یورپی قوموںسے زیادہ بہتر جانتے تھے۔ 1602 ء سے1607 ء تک شمالی امریکہ میں برطانیہ نے اپنی نو آبادیات مستحکم کر نی شروع کر دی تھیں۔

جیمزٹاؤن اس کی اولین مثالوں میں سے اہم ہے۔آج چارسو سال سے زیادہ گذرنے کے باوجود ،،جان سمتھ اور جیمزٹاؤن کی کہانی ،، کے عنوان سے انفرادی اور اجتماعی کامیابی کی ایک سچی داستان دنیا بھر، خصوصاً امریکہ اور بر طانیہ میں بہت دلچسپی سے پڑھی جاتی ہے، جس سے اُس زمانے کے امریکہ کی مہم جو ئی کے لیے یورپی اقوام کا عز م جھلکتا ہے۔ ا س کہانی سے ا مریکہ میں یورپی قوموں اور وہاں کے ہزراوں سال پرانے امریکی یعنی ریڈ انڈین کے درمیان مقابلے لڑائیاںجنگیں، نئی سر زمین پر قدم جمانے کے لیے حوصلہ و ہمت کو محسوس کیا جا سکتا ہے ،سمتھ اور جمیزٹاؤن کی کہانی یو ں شروع ہو تی ہے:

’’میر انام جان سمتھ ہے میں ایک سپاہی اور مہم جو ہوں، میری زندگی ہمیشہ ہی سے نامعلوم کی تلاش اور نئے افق کی دریافت کی کھوج میں گذری ہے۔ سن1606 ء کا دسمبر تھا جب لند ن کی دھند آلود فضا میں اُمید اور خواہشات جوش تھا۔ 20 دسمبر کو میں ورجینیا کمپنی کے تین چھو ٹے جہازوں سوزن کانسٹنٹ ، گاڈ سپیڈ ،اور ڈسکوری پر سوار 100 سے زیادہ مردوں اور لڑکوں سے ایک تھا۔ ہمارا مقصد ایک ایسی نئی دنیا کی طرف سفر تھا جس کے بارے میں ہم نے صر ف کہانیاں سنی ہو ئی تھیں۔ ایک ایسی سر زمین جسے امریکہ کہا جا تا ہے۔ ہم سب کے دلوں میں بڑے بڑے خواب تھے کچھ سونا اور دولت تلاش کر نے کی امید کر رہے تھے، جب کہ دوسرے شہرت حاصل کرنا اور ایک نئی زندگی کا آغاز کر نا چاہتے تھے۔

بحر اقیانوس کا سفر طویل اور کٹھن تھا۔ ہفتوں ہم چھوٹے لکڑی کے جہازوں پر ہچکو لے کھا تے ر ہے، سوائے نیلے پانی اور وسیع آسمان کے کچھ نہیں دیکھا۔ چار مہینے بعد اپریل1607 ء کو ہمیں زمین دکھائی دی‘‘ ۔ پھر کہانی میں جان سمتھ ورجینیا کے علاقے میں اپنے بادشاہ کے نام پر قائم قصبے جیمز ٹاؤن پہنچتا ہے ،وہاں کام کر نے لگتا ہے۔ یہاں مچھروں کی بہتا ت ہے۔ خوفناک بیماریاں اور بھوک سے مقابلہ ہے۔ یہاں ریڈ انڈین قبیلے کے لو گ ایک دن اُسے پکڑکر سردار پوہاٹن کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اُس کے قتل کا حکم دیتا ہے، مگر سردار کی بیٹی اپنا سر اُس کی گردن پر رکھ کر اُسکی جان بخشی کی گزارش کر تی ہے، یوں جان سمتھ کی جان بچ جا تی ہے۔ پھر 1609 ء میں ایک حادثے میںباردو پھٹنے کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو جا تا ہے۔ اُسے واپس لندن لا یا جا تا ہے۔ وہ نہیں چاہتا ہے کہ جمیس ٹاؤن چھوڑے، مگر مجبوری کی وجہ سے اُسے لندن ہی میں رہنا پڑتا ہے۔

آخر میں وہ لکھتا ہے کہ مجھے یہ سُن کر خوشی ہوتی ہے کہ جیمزٹاؤن اتنی ترقی کر گیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہم نے اتنی مشکلات برداشت کر کے جو پو دا لگایا تھا اب وہ تن آور درخت بن چکا ہے۔ یعنی 1625 ء تک جیمیس ٹاؤن ایک مستحکم ٹاؤن بن گیا تھا۔ واضح رہے کہ (King James1 )جمیز اوّل ہی وہ برطانوی بادشاہ تھا جس نے شمالی امریکہ ورجینیا میں 1607 ء میں برطانیہ کی نوآبادی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے نام پر یہ ٹاؤن تعمیر اور آباد ہو ا۔ اسپین کی جانب سے کولمبس نے امریکہ دریٖافت کیا تھا، پہلے اسپین کے باشندے امریکہ جا نے لگے۔

شروع کے برسوں میں ہسپانوی قوم سے تعلق رکھنے والے فراد کی تعداد 12 لاکھ سے زیادہ ہوگئی۔ اسی طرح فرانس کی نوآبادیات بھی قائم ہوئیں۔ اٹلی نے بھی براعظم امریکہ میں اپنی نوآبادیات بنائیں۔ ولندیزیوں کی نوآبادیات بھی تھیں۔ سترویں صدی عیسوی میں جہاں ایک جانب ریڈ انڈینز کو بے تحاشہ قتل کیا گیا اس مقصد کے لئے توپوں، بارود، رائفلوں اور پستولوں کا بے دریغ استعمال ہوا۔

اسی دور یعنی 1600 ء سے 1627 ء کے دوران ہم برصغیر کا جا ئزہ لیں تو یہاں اُ س وقت اکبر اعظم کے بعد اُس کا بیٹا سلیم الدین جہانگیر شہنشاہ ہند بن چکا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی 1600 ء میں بر طانیہ میںقائم ہو ئی تھی۔ اُس وقت بر طانیہ میں ملکہ ایلزبتھ اوّل کی حکومت تھی جس کی حکمت و دانائی بر طانیہ کی تاریخ میں تسلیم کی جاتی ہے۔ تعریف کی بات یہ ہے کہ وہ ہندوستان برصغیر کے عظیم بادشاہ اکبر اعظم (دور اقتدار 1556 ء تا 1605 ء )اور ایرانی سلطنت ِ سفویہ کے سب سے عظیم بادشاہ عباس اعظم (دور اقتدار 1588 ء تا 1629 ء) کی ہم عصر تھی۔ ایلزبتھ اوّل 1533 ء میں پیدا ہو ئی اور1603 ء میں وفات پائی۔ وہ پچیس سال کی عمر میں1558 ء میں ملکہ بنیں۔ 45 سال حکمرانی کے بعد 1603 ء میں وفات پائی۔

اِن کا 45سالہ عہد برطانیہ میں نشاۃ ثانیہ کا عہد کہلاتا ہے۔ حقیقت ہے کہ اس ملکہ نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اِن پینتالیس برسوں میں برطانیہ کی بحریہ دنیا کی سب سے بڑی ،بلکہ عظیم قوت بن گئی جس نے پہلی جنگ عظیم 1914-18 ء تک بر طانیہ کو دنیا کی سپر طاقت بنائے رکھا۔ اسی ملکہ کے دورمیں دنیا کا عظیم ترین سائنسدان آئزک نیوٹن سائنس کا شہنشاہ بنا ،تو ادب کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ولیم شیکسپر نے برطانیہ ہی میں لا ثانی انگریزی ادب تخلیق کیا۔ اسی ملکہ کے دور میں برطانیہ کی نیوی نے اسپین کے طاقتور بحری بیڑے کو تباہ کر کے دنیا کے سمندروں میں اپنی بالا دستی قائم کرلی۔ ملکہ ایلزبتھ اوّل کے دور میں ہی بر طانو ی تجارتی کمپنیوں نے برصغیر اور دیگر مشرقی ملکوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ اسی ملکہ نے بر طانیہ کی حکومت کو مذہبی بالادستی سے آزادی دلواکر خانہ جنگی سے بچایا ۔

مغل بادشاہ جلا الدین محمد اکبر بارہ برس کی عمر میں بادشاہ بن گیا تھا۔ 27 برس کی عمر تک اکبر کے ہاں اولا دنہیں ہو ئی۔ 1564 ء میںاکبر کے ہاں حسن اور حسین دو جڑواں بیٹے پیدا ہو ئے مگر صرف ایک ماہ بعد انتقال کرگئے۔ اکبر کو ہندوستان میں سب سے زیادہ روحانی عقیدت خواجہ محی الدین چشتی سے تھی۔ اُنہوں نے یہ منت مانگی کہ اگر اِن کے ہاں بیٹا پید ا ہواتو وہ آگرہ سے اجمیر تک پیدل چل اُن کے ہاں حاضری دینگے۔ اس پر اکبر ِاعظم کے ایک درباری نے بتا یا کہ آگر میں پہاڑ کے نزدیک خواجہ محی الدین چشتی کے عزیز ترین شاگر سلیم الدین چشتی رہتے ہیں آپ اُن کے ہاں حاضری دیں۔ اکبر اعظم سلیم الدین چشتی کے پا س پہنچے۔ اُنہوں نے دعاکی۔ اکبر نے پو چھا کہ اُس کے ہاں کتنے بیٹے پیدا ہوں گے۔

سلیم الدین چشتی نے فر مایا اللہ تعالیٰ آپ کو تین بیٹے عطا کر ئے گا۔ اللہ کا کر نا ایسا ہی ہوا، پہلے بیٹے کا نام بھی اکبر اعظم نے انہی بزرگ کے نام پر سلیم الدین رکھا۔ ہند وستان کی تاریخ میں دوا عظم گزرے ہیں، اشو ک اعظم اور اس کے تقریباً انیس سو سال بعد اکبر اعظم جس نے تقریباً نصف صدی حکومت کی۔ اُس وقت ہند وستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا۔ اکبر کی حکومت کابل سے بنگال تک تھی۔ اُسے کنجوس بادشاہ بھی کہا جا تا ہے۔

اکبر نے اتنی دولت جمع کی کہ اُس کے بعد سیلم الدین جہانگیر کی عیاشیوں، شاہجہان کی جانب سے تاج محل ، شالامار باغ اور دیگر عظیم عمارتوں کی تعمیر ہوئی۔ اورنگ زیب عالمگیر کی جنگوں اور مہمات کے بعد بھی ہندوستان کا خزانہ خالی نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح صفوی سلطنت کا عظیم بادشا ہ عباس اعظم ’جس نے اصفہان کو دارالسلطنت بنا یا‘ اس کو نصف جہان کہلوا یا۔ اُس نے عثمانیوں اور ازبکوں کو شکستیں دے کر کئی ایرانی علاقے واپس لیئے مگر اس کی وفات کے بعد سلطنت صفوی کو زوال آگیا۔ واضح رہے کہ ملکہ ایلزبتھ اوّل کے دور میں بر طانیہ کا رقبہ مغلیہ اور صفوی سلطنتوں کے مقابلے میں پچاس گنا کم تھا۔ وسائل بھی کئی گنا کم تھے، مگر ایلزبتھ اوّل نے تاریخ کے رخ کو بر طانیہ کے حق میں موڑ دیا۔ اس کی پہلی وجہ میگنا کارٹا، اور دوسری وجہ تعلیم و تحقیق کا فروغ تھا۔

دو بادرہ جہانگیر کی طرف آتے ہیں جس کے بارے میں یہ بھی کہا جا تا ہے اُس نے اپنے باپ زہر دیا تھا ،جس کی وجہ سے وہ بیمار ہو کرا نتقال کر گیا۔ جہانگیر شراب کا رسیا تھا۔ ظہیر الدین بابر کی طرح جہانگیردوسرا مغل بادشاہ تھا جس نے اپنی خود نشت سوانح لکھی لس کا نام تزک جہانگیری تھا۔ اس میں جہانگیر بہت حقیقت پسندی کا مظاہر کیا۔ ایسا موا د بھی اپنی شخصیت کے حوالے سے شامل کیا جس سے اُس کی شہرت کو نقصان بھی پہنچا۔ جہانگیر نے اپنی شراب نو شی کو پوشیدہ نہیں رکھا۔ تزک جہا نگیر ی میں اُس نے اعتراف کیا کہ، ایک مدت تک وہ روزانہ بیس پیالے شراب پیا کرتا تھا۔ دن میں چودہ پیالے رات کو چھ پیالے بعد میں اُس نے میںکمی کر دی۔ جہانگیر کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ عورتوں کا بھی شوقین تھا۔ جہانگیر کی جانب سے سورت ،گجرات ،میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارتی کو ٹھیاں بنانے کے لیے وسیع رقبہ فراہم کیا گیا۔ اس اعتبارسے دو روایتیں ہیں۔

ایک یہ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی والوں نے بہت عمد قسم کی شراب جہا نگیر کو فراہم کی، دوسری روایت یہ ہے کہ جہانگیر کے خاندان کی کوئی شہز اد ی بیمار ہو ئی جس کا علاج کمپنی کے ماہر انگریز ڈاکٹر نے کیا۔ شہزادی کی صحت یابی پر جہانگیر نے خوش ہو کر ڈاکٹر کی فرمائش پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ایک وسیع زمین دے دی۔ یوں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی پہلی تجارتی کو ٹھی 1613 ء میںسور ت گجرات میں قائم کردی، تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ برطانیہ کے سفیر سر ٹامس نے جہانگیر سے ہندوستان میں تجارتی حقوق حاصل کئے تھے۔ سلیم الدین جہا نگیر کا دورِ اقتدار 1605 ء سے 1627 ء ہے۔ یہ نو آبادیا تی دور کے آغاز کا زمانہ تھا۔ یورپی اقوام شمالی جنوبی امریکہ ، لاطینی مریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا پہنچ رہی تھیں تو دوسری جانب ایشیا اور افریقہ کے ممالک بھی اِن کی زد میں تھے۔ اس لیے یہاں ہند وستان کے مغل شہنشاہ جہانگیر کی حکومت اور پالیسیوں کا مختصر جا ئز تاریخ کے سماجی سیاسی اقتصادی عمل کی عکاسی کے لیے ضروری ہے۔ جہانگیر نے ہندوستان پر 22 سال حکومت کی۔ یہ حقیقت ہے کہ اُس نے سونے کی ایک ’زنجیر عدل‘ لٹکا رکھی تھی اور فر یادی محل کے باہر سے زنجیر کھنچتا تو وہ انصاف کی فراہمی کے لیے خود حاضر ہو جا تا۔ ایسا چند مرتبہ ہو ا بھی ہے مگر انصاف کا پروپیگنڈہ زیادہ ہے۔

ملکہ نو رجہاں اُسے پسند تھی۔ مشہور ہے کہ اُس نے نور جہاں سے شادی کر نے کے لیے اُس کے شوہر شیر افگن کو ’جو بنگال میں اعلیٰ منصب پر فائز تھا‘ قتل کروا دیا تھا۔ بعد میں جہانگیر نے نور جہاں سے شادی کی۔ بادشاہ بننے کے ایک سال بعد ہی جہانگیرکے بیٹے خسرو نے بغاوت کردی، جس کو جہا نگیر نے دبا دیا۔ نورجہاں کا جہا نگیر پر بہت اثر تھا جس کی وجہ سے ملکہ جائز نا جا ئز سرکاری امور میں مداخلت کرتی ۔ بہت سے درباری امراء نورجہاں کی خو شنودی حاصل کرنے کے لیے نور جہاں کے کمزور فیصلوں کی حمایت کرتے تھے۔ یوں امور حکومت میں مشکلات بھی پیدا ہو تی تھیں۔ جہانگیراچھا مصور بھی تھا۔ خود میدان جنگ میں فوج کی کمان بھی کیا کر تا تھا۔ 1620ء میں جہا نگیر نے کانگڑا کے قلعوں کو فتح کیا۔ مغلوں کی ہندوستان آمد اور سکھ مذہب کا عروج کم و بیش ایک زمانے کی بات ہے۔ گرو ارجن دیو سکھوں کے پانچویں اور اہم گرو تھے۔ وہ گرو رام داس کے بیٹے تھے وہ1581 ء میں گرو کے منصب پر فا ئز ہو ئے۔ اِنہی کے دور میں دربار صاحب امرتسر کی تعمیر مکمل ہو ئی۔

تر تارن اور کرتار پور بھی اُنہوں نے آباد کئے۔ سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ کو بھی گرو ارجن دیو نے مرتب کیا۔ سکھ مذہب کی تبلیغ کے لیے مسند بنائے، لنگرخانوں ،گردواروںکے انتظام کے لیے سکھوں پر دسواں ٹیکس لگا یا ،روایت ہے کہ جہانگیر کے والد شہنشاہ اکبرا عظم نے اُن کو شرف باز یا بی بخشا تھا۔ جہانگیر کے بیٹے خسرو نے جب اپنے با پ کے خلاف بغاوت کی تو گرو ارجن دیو نے شہزادہ خسرو کی حمایت کی۔ خسرو کی گرفتاری کے بعد اُس کے حامیوں کے خلا ف جہانگیر نے کا روائیاں کیں۔ گرو ارجن دیو کو لاہور کے قلعہ میں قید کر دیا گیا۔ ایک روایت ہے کہ 30 مئی 1606 کودوران قید گرو ارجن دیو نے دریائے راوی ’جو قلعہ لاہور کے پہلو سے گذرتا تھا‘ میں نہا نے کی خواہش ظاہر کی۔

جب اُنہوں نے دریا میں ڈبکی لگائی تو پر سرار طور پر غائب ہو گئے۔ بعض اس واقعہ کو مذہبی اعتبار سے عقیدے کا حصہ سمجھتے ہیں ،کچھ کا خیال ہے کہ اُنہوں نے خود کشی کر لی تھی۔ زیادہ مورخین کی رائے ہے کہ جہانگیر نے اُن کو قتل کرا دیا تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ جب سکھوں نے طاقت حاصل کی تو سکھوں نے جہانگیر اور نور جہاں کے مقابر کو لوٹ لیا۔ اُن کی بے حرمتی کی ،لاکھوں مسلمانوںکا قتل عام ہوا ،اہم یہ ہے کہ اس قتل کی وجہ سے مغلوں اور سکھوں کے درمیان نفرت بڑھی جس میں مزید اضافہ شہنشاہ اورنگ زیب کے دور میں ہوا اور اسکے اثرات 1947 ء میں ہو نی والی پنجاب کی تقسیم پر بھی مرتب ہو ئے۔ جب ماسٹر تارا سنگھ نے ولب بھائی پاٹیل اور نہر و سے مل کر سازش کی اور پنجا ب کو اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کروایا جس میں مجموعی طور پر مسلمان ہندووں اور سکھوں کی مجموعی تعدادکے تناسب سے بھی اکثریت میں تھے جبکہ ہندووں اور سکھوں کی الگ الگ تعداد کے مقابلے واضح اکثریت میں تھے۔ یہی دشمنی تھی جس نے پنجاب کی تقسیم 1947 ء میں لاکھوں مسلمانوں ، سکھوں اور ہندوں کو قتل کروایا۔ جہانگیر میں سیاسی فہم و فراست کمی تھی۔ وہ کسی فیصلے کے مستقبل میں سیاسی اثرات کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔

اگر جہا نگیر نے اپنے باپ اکبر کی طرح کبھی گروارجن دیو کو شرف ملا قات بخشا ہو تا تو گرو ارجن دیو کبھی بھی شہزادہ خسرو کی حمایت نہ کر تے ، پھر یہ بھی ہے کہ اگر جہا نگیر نے گروارجن دیو کے بارے میں درگذر سے کام لیا ہوتا تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ جہانگیر اور مغلوں کے کس قدر وفادار ہو تے۔ مغلوں کے ہاں شہنشاہ ظہرالدین بابر سے پہلے ولی عہد کی بنیاد پر سلطنت میں اقتدار کی منتقلی کا رواج نہیں تھا ، چنگیز خان اور امیر تیمور کی وسیع سلطنت کو اِن کی وفات کے بعد بیٹوں میں برا بر برابر تقسیم کر دیا گیا تھا۔ بابر جس کے والدین پانچویں ساتویں پشت میں امیر تیمور اور چنگیزخان کے شجرے سے تھے اُس بابر کے حصے میں تقسیم در تقسیم ازبکستان کی ایک چھوٹی ریاست فرغانہ آئی تھی۔

بابر نے ہندوستان کی فتح کے بعد یہ فیصلہ کر لیا کہ دنیا میں بادشاہت کی بنیاد پر سلطنتوں کو صدیوں قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے قبائلی طرز پر جانشینی ہو اور نجیب الطرفین بادشاہ کا بڑا بیٹا ولی عہد قرار دیا جائے جو باد شاہ کے بعد سلطنت کا بادشاہ بنے۔ بابر نے شہزادہ ہمایوں کو ولی عہد بنایا تھا لیکن بابر کے دوسرے بیٹوں نے باپ کے اس قانون کی بجائے مغلوں کی روایت کو اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمایوں کے بھائی تخت کے لیے ہمایوں کے خلاف ہو گئے تھے۔ جہانگیر کو بھی کافی حد تک ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر نا پڑا تھا۔ پھر جب جہانگیر نے چاہا کہ ولی عہد مقرر کیا جائے تو اُس پر بے حد اثر انداز ہو نے والی ملکہ نور جہاں نے سازشیں کیں۔ جہانگیر کا بیٹا شہزادہ خرم ( شاہجہان) مناسب ولی عہد تھا جو شراب بھی نہیں پیتا تھا۔ اُس نے نوجو انی میں فوج کی کمان کرتے ہو ئے میواڑ کے راجہ رانا امر سنگھ کو شکست دی تھی۔

نورجہاں اور اِس کا بھائی آصف جاہ شہزادہ خرم کی بجائے اپنے داماد شہر یار کو ولی عہد بلکہ بادشاہ بنانا چاہتے تھے۔ 1623 ء میں شہزادہ خرم نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی۔ مغل فوج کا سپہ سالار شہزادہ خرم کے ساتھ تھا۔ ایک موقع پر جہانگیر کو قید بھی کر لیا گیا۔ بعد میں دونوں باپ بیٹا میں صلح ہو ئی۔ یوں کشمیر میں نورجہاں اور اس کا بھائی بھی سپہ سالار مہابت خان کے رحم و کرم پر تھے مگر موقع ملتے ہی نورجہاں نے مغل فوج کے سپہ سالار مہابت خان کے خلاف سازش کی۔ یوں دیکھا جائے تو بطور شہنشاہ ہند سیلم الدین جہانگیر ایک کمزور حکمران تھا۔ جس پر ملکہ نورجہاں پوری طرح حاوی تھی جہانگیر نے اکبر اعظم کے مقابلے میں بہت کمزور انداز میں حکمرانی کی۔ اگر چہ اُسے ایک بڑے خزانے کے ساتھ ہندوستان جیسی دولت مند سلطنت وراثت میں ملی تھی مگر اُس نے نہ تو سلطنت کی حدود اور رقبے اضافہ کیا بلکہ اُس کے دور میں افغانستان میں قندھار ہاتھوں سے نکل گیا۔ کشمیر جہانگیر کو بہت پسند تھا۔ 1627 ء وہاں سے واپسی پر بھمبرکے مقام پر جہانگیر کا انتقال ہوا۔ اُسے لاہور میں دفن کیا گیا۔

سلیم الدین جہا نگیر نے اپنے عظیم باپ اکبراعظم کی طویل اور کامیاب حکومت کے بعد1605 ء سے 1627 ء تک حکومت کی۔ تقریباً اسی دور میں برطانیہ کی عظیم ملکہ ایلزبتھ اوّل کے بیٹے شاہ جیمز نے 1603 ء سے 1625 ء تک شہنشاہ ء برطانیہ کی حیثیت سے حکومت کی۔ جمیز کے دور اقتدار میں اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ متحد ہو گئے۔ یہ زیادہ اختیارات کے ساتھ کام کر نے کا عادی تھا۔ اس لیے اس کے اور برطانوی پارلیمنٹ کے درمیان کشیدگی بھی رہتی تھی۔ اس کی ماں ملکہ ایلزبتھ نے ملک کو مضبو ط بنیادیں فراہم کر دیں تھیں۔ خصوصاً برطانوی بحریہ کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ اب ضروری تھا کہ جیمز اوّ ل کم سے کم اپنی ماں کے اُ س معیار اور طرزحکومت کو قائم رکھے یا اُن کامیابیوں کی صحت کو بر قرا رکھے جو ملکہ ایلزبتھ نے حاصل کر کے مستحکم چھوڑی تھیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ بادشاہ جیمز اوّل نے برطانیہ کے وقار اُس کی نو آبادیوں میں اضافہ کیا۔ اسی کے زمانے میں ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں تجارتی حقوق حاصل کئے۔ یہاں تجارتی کوٹھی قائم کی۔ شمالی امریکہ میں 13 ریاستوں پر مشتمل اُ س امریکہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کئیں جو تاریخ میں اصل امریکہ کہلا یا۔

بلکہ شاہ جمیزنے اپنے دور میں امریکہ کو تعمیر کیا۔ 1607 ء اسی بادشاہ کے دورمیں شمالی امریکہ میں پہلی مستحکم امریکی نو آبادی ورجینیا میں وجود میں آئی۔ یہاں اسی کے نام سے جیمز ٹاؤن تعمیر ہوا۔ جمیز ہی کے حکم سے 1611 ء میں بر طانیہ میں بائبل کا انگریزی ترجمہ ہوا۔ آج بھی بائبل کا یہی ترجمہ مروج ہے۔ اگر چہ آج ہم اُس تاریخی عمل کو انسانی حقو ق کے اعتبار سے درست قرار نہیں دیں گے مگر اُ س دور کے اعتبار سے کسی کے علاقے پر قبضہ کر نا عام سی بات تھی۔ شمالی امریکہ میں بر طانیہ کی جانب سے مقامی امریکیوں کے خلاف جنگیں جاری رہیں۔ ساتھ ہی یوریپیوں کے خلاف بھی جنگیں ہو ئیں۔ جیسے( جنگِ پیکوٹس )اِن میں انگریزوں نے دوسروں سے زمینیں چھینیں۔ 1619 ء میں برطانیہ نے امریکہ میں نو آبادیوں کو زرعی ، اقتصادی اور عسکری بنیادوں پر مضبو ط کیا۔ اس کے لیے افریقہ سے ہزراوں غلاموں کو در آمد کیا گیا۔ یہاں سے غلامی کا دور شروع ہو ا۔ شاہ جمیز کے دور میں تمباکو کی کاشت شروع ہوئی ، تمباکوکی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوا جس سے معیشت مضبو ط ہو ئی۔ بر طانیہ کے بادشاہ جمیز ہی کے زمانے 1619 ء ہی میں شمالی امریکہ میں مقامی خود مختاری کے ابتدائی مراحل شروع ہو ئے۔ ایک سیاسی ڈھانچہ ورجینیا میں ،،ہا ؤس آف برگیسز اور میسا چیوسٹ میں جنرل کورٹ قائم ہو ئے۔

یہی ادارے امریکہ میں جمہوریت کی بنیاد بنے۔یہاں امریکہ اور برصغیر کے تناظر میں موازانہ سامنے ہے، بر طانیہ نے اسی دور میں نہ صرف امریکہ میں نو آبادیاں مستحکم کیں بلکہ کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور دیگر ملکوں میں بھی قدم رکھا تھا۔ یورپی ملکوں میں فرانس ، اٹلی ، اسپین ، پرتگال ، ہالینڈ وغیر ہ بھی شامل تھے جن سے بر طانیہ نے جنگیں کیں اور اپنے نو آبایاتی رقبے میں لاکھوں مربع کلو میٹر کا اضافہ کیا۔ برطانیہ اور یورپی ملکوں کی نو آبادیاں دوسری جنگِ اعظیم کچھ عرصہ بعد تک قائم رہیں۔

بر طانوی جمہوریت اور نو آبایاتی نظام

بر طانیہ کو دنیا میں جمہوریت کی ماں قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی یہاں روائیتی طور پر بادشاہت کا بہت احترام ہے جو انگریز عوام دل سے کرتے ہیں۔ یہاںکی بادشاہت کے بارے میں مصر کے آخری بادشاہ ،،شاہ فاروق،،کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایک وقت آئے گا کہ صرف پانچ بادشاہ رہ جائیں گے ، چار باد شاہ تاش کے پتوں کے ایک حقیقی بادشاہ بر طانیہ میں ہو گا۔ دنیا اب تک اس بات سے اتفاق کرتی ہے۔

بادشاہت اور جمہوریت میں توازن کا آغاز بر طانیہ میں 1215 ء کے میگنا کارٹا کے اُس معاہدے سے ہوا جس پر اُن وقت کے امرا ( لارڈز ) نے شہنشاہ پرد باؤ ڈال کر دستخط کروائے۔ اُس کے مطلق العنان اختیارات میں کمی کردی۔ 1492 ء میں امریکہ کی دریافت اور 1498 ء میںہندوستان کے نئے بحری راستے کی دریافت کے کچھ عرصے بعد ہی نو آبادیاتی نظام یورپی اقوام نے دنیا کے بیشتر ملکوں پر مسلط کر نا شروع کر دیا۔ دیگر یورپی اقوام میں جمہوری مزاج بر طانیہ کے مقابلے کم تھا۔ کیونکہ بر طانیہ میں میگنا کارٹا سے شروع ہو نے والا ابتدائی جمہوری عمل وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ اہم بات یہ کہ بر صغیر میں شہنشاہ اکبر اعظم اور برطانیہ میں ملکہ ایلزبتھ کا اقتدار تھا جب دنیا میں یو رپی اقوام نے نو آبادیا تی نظام کا آغاز کیا اور ساتھ ہی اسی ملکہ کے زمانے میں پارلیمنٹ کو بھی اہمیت حاصل ہو ئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی اور دوسرے ادارے پارلیمنٹ میں بحث کے بعد قانون سازی کے تحت وجود میں آئے۔ تاریخی اعتبار سے عہد بہ عہد برطانوی پارلیمنٹ بادشاہ یا ملکہ متوازن انداز میں کام کرتے رہے، اگر چہ ہر بادشاہ یا ملکہ کی انفرادی شخصیت کے اثرات کسی حد تک سامنے رہے جیسے بادشاہ جمیز پارلیمنٹ سے بہت الجھتا تھا وہ چاہتا تھا کہ اُس کے پاس خصوصاً نو آبایاتی نظام کو چلانے کے لیے، مخالف یورپی ملکوں سے زمینیں چھیننے، لڑائیاںکرنے اور نو آبادیاتی ملک میںانتطامی امور چلانے سے متعلق مکمل اختیارات ہوں۔ مگر برطانیہ میں ابتدائی جمہورت کے دور میں بھی شاہ جمیز کو یہ اختیارات نہ مل سکے۔ اس لیے برطانوی نو آبادیات میں ابتدائی اور بنیادی جمہوریت نہ صرف شمالی امریکہ بلکہ برصغیر میں بھی متعارف ہو ئی۔ بر طانیہ میں پارلیمنٹ میں جمہوری بنیادوں پر نو آبادیاتی معاملات پر مباحثے ہو نے لگے۔ بر طانوی پارلیمانی نظام میں سب سے اہم (State Opening of Parliment ) پارلیمنٹ کا افتتاحی اجلاس ہوتا ہے۔ بادشاہ یا ملکہ جو بھی تحت نشین ہو، وہ خطاب کر تے ہیں۔ یہ روایت ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام اور آمد سے بھی جڑی ہو ئی ہے۔ بر طانیہ میں پارلیمنٹ ایک با قاعدہ اور صدیوں سے مسلسل قائم رہنے والا ادارہ ہے۔ برطانوی عوام اس کی بہت قدر کرتے ہیں۔ جیسے ہمارے ہاںسینٹ اور قومی اسمبلی کے طرح دو ایوان ہیں بر طانیہ میں بھی ہاؤس آف لارڈز اور ہاؤس آف کامنز ہیں۔

پارلیمنٹ میں قانون سازی ہوتی ہے۔ اہم ملکی امور نمٹائے جا تے ہیں۔ ملکہ ایلزبتھ کے دور میں ا یسٹ انڈیا کمپنی قائم ہو ئی، برطانوی راج کے تحت پارلیمنٹ کا کردار بڑھ گیا، بر طانیہ میں جمہوریت حقیقت پسندی کی بنیاد پر ارتقا پا ئی، اس عمل میں بادشاہت کے ساتھ ساتھ پارلیمانی جمہوریت بھی مستحکم ہو تی گئی، یوں دیکھا جا ئے تو شاہ جمیز اور ہندوستان کے بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا فرق ایک خلیج کی طرح وسیع تھا۔ دوسری جانب برطانیہ اپنے ملک سے کہیں زیادہ وسیع رقبے پر امریکہ ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ پر قابض ہو چکا تھا۔ ہندوستان میں انگریز داخل ہو چکا تھا بر طانوی عوام علمی تحقیقی میدانوں میں اچھے تعلیمی تحقیقی اداروں کے قیام سے بہت آگے بڑھ رہے تھے۔ ہندوستان میں ظہیر الدین بابر نے آمد کے بعد یہاں کے پرانے جاگیردارنہ نظام میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی تھیں جو سردار با بر کے ساتھ آئے تھے وہ اب ہندوستان میں نوابین تھے۔ شاہی دربار میں امراء کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ اکبر بادشاہ کے جو مشیر تھے اُن میں سے بھی دو تین اہم شخصیات کو قتل کروانے کے الزامات شہنشاہ جہانگیر پر عائد ہوتے ہیں۔ یہ وہ حالات تھے جس میں ہندوستان میں ایسٹ انڈیاکمپنی متعارف ہو ئی تھی۔ جہانگیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارتی اجازت نامہ عطا کیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں تجارتی کو ٹھی بھی بنالی تھی۔

جہانگیر کے دور میں یہاں قائم جاگیردارانہ نظام میں کسی قسم کا جمہوری انداز متعارف بھی نہیں ہو اتھا۔ جب کہ برطانیہ میں جہاں پوری دنیا میں اُن کی نو آبادیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا تو ساتھ ہی پارلیمنٹ کی بنیاد پر برطانیہ میں اپنے اپنے شعبوں میں ماہردانشور ہر بدلتی صورتحال پر آزادانہ بحث کر تے اور بہترین حل تک پہنچتے تھے۔ نو آبادیاتی شمالی امریکہ میں برطانیہ کے کی انگریز آبادی تھی انگریزوں کی جانب سے سیاہ فام غلاموں سے بیگار لینے ، ریڈ انڈینز کی نسل کشی جاری تھی۔ امریکہ میں ایشیا اور افریقہ کی نو آبادات کے برعکس صورتحال برطانوی باشندوں کے لیے مثبت اور مختلف تھی ،ایشیا ، افریقہ میں جہاں جہاں جن جن ملکوں کو یورپی اقوام نے اپنی نو آبادیات بنایا وہاں عوام اِن یورپی مغربی اقوام کی آمد سے پہلے ایک منظم اقتدار کے تحت سلطنتوں کی بنیاد پر ہزاروں برسوں سے آباد تھے اور آزادانہ حکومت کرتے تھے، بلکہ تاریخ یہ بتا تی ہے کہ وہ ایک وقت یا دور بھی تھا جب ایشیا افریقہ کی یہ اقوام سے تہذیب و تمدن علم و تحقیق میں یورپی اقوام سے آگے تھیںاس لیے جب یہ نو آبادیاتی ملکوں کے اقوام یورپی اقوام کی غلامی آئے تو دنیا کے مروجہ انداز سے نئے حکمرانوں کی حکمرانی قبول کی۔

یورپی نئے بادشاہ یا حاکم ہو ئے ، اِن نو آبادیاتی ملکوں کے عوام کو نہ ریڈانڈینز کی طرح قتل کیا گیا نہ ہی افریقہ سے لائے گئے سیاہ فام غلاموں کی طرح بلامعاوضہ بطور سپاہی اور بطور کسان استعمال کیا گیا۔ مگر شمالی امریکہ میں جو انگریز آبادی لاکھوں کی تعداد میں پہنچ گئی تھی اُن کے ہاتھوں ریڈانڈینز قتل ہو ئے تو یہ انگریز آبادی برصغیر کے عوام کے مقابلے میں بر طانیہ کی مرکزی حکومت کی غلام آبادی نہیں تھی اس کے لیے جمہوریت کا معیار اور عوامی حقوق برابر کے ہو نے تھے۔ شاہ برطانیہ جیمز کے دور میں شمالی امریکہ میں جمہوریت کی ابتدا ہو ئی وہاں برطانیہ سے آکر امریکہ میں آباد انگریزوں کو حقوق دیئے گئے تو دوسری جانب اسی دور میںامریکہ میں غلامی کا دور بھی شروع ہو ا۔

افریقہ جہاں برطانیہ نے نو آبایاتی نظام پھیلا دیا تھا یہاں سے ہزاروں سیاہ فام غلام امریکہ آنے لگے۔ اِن غلاموں کو تمباکو کی کاشت سمیت زمینوں پر جاگیردارانہ نظام میں بطور بلا معاوضہ کسان استعمال کیا گیا تو دوسری جانب وقت پڑنے پر انہی سیاہ فاموں کو بطور بلا معاوضہ سپاہی ریڈانڈینز سے لڑائی اور جنگ میں استعمال کیا گیا، یعنی اِن سیاہ فام غلاموں سے ریڈانڈینز کی نسل کُشی بھی کروائی۔ امریکہ کی تاریخ یہ بتا تی ہے کہ شاہ جمیز کے دور میں غلام داری کی ابتدا ہو ئی واضح رہے کہ بعد میں یہ سیاہ فام غلام براؤن یا کلرڈ امریکی کہلائے اور اُنہوں نے بھی اپنے حقوق کے لیے طویل جہد جد کی۔ شاہ جمیز نے امریکہ میں آباد ہو نے والے انگریزوں کے لیے ایک جمہوری عمل شروع کیا جس میںبرطانیہ سے امریکہ آنے والے انگریزوں کے حقوق اور خو د مختاری کے لیے اقدامات کئے گئے تھے ۔   (جاری ہے) 

Load Next Story