کراچی میں پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی بہتری

کراچی میں حال یہ ہے کہ نئی بنائی ہوئی سڑک ایک ماہ بعد ہی ترقیاتی کام کے نام پر کھود دی جاتی ہے۔

m_saeedarain@hotmail.com

سندھ حکومت نے گزشتہ دنوں کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے اکیس ارب 53 کروڑ روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں شہر کی ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی و بہتری کے لیے تیرہ ارب روپے کی گرانٹ ان ایڈ شامل ہونے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

وزیر بلدیات سندھ نے وزیر اعلیٰ کو بتایا تھا کہ شہر کی 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنوں نے شدید خستہ حال سڑکوں اور گلیوں کی مرمت کے لیے فنڈز فراہمی کی درخواست کی ہے جو خود ان منصوبوں پر عمل درآمد سے قاصر ہے۔ میئر کراچی نے بھی بتایا تھا کہ کراچی کے سات اضلاع میں مجموعی طور پر چار سو سڑکوں کی بحالی کی ضرورت ہے جن میں صرف نو سڑکوں کی ازسر نو تعمیر اور باقی پر پیچ ورک دستیاب ہے اور ان سڑکوں کی بحالی کے لیے دس ارب 93 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ سیوریج اور پانی کی فراہمی کے منصوبے پر اضافی 15 فی صد ایک ارب 64 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔ میئر کراچی کے مطابق مجموعی لاگت بارہ ارب 57 کروڑ روپے ہو جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کی بڑی 26 سڑکوں کو خود بحال کرے گی 5 ارب 53 کروڑ روپے اور واٹر کارپوریشن کے ذریعے فوری طور پر ایک ارب روپے پانی اور سیوریج لائنوں کی مرمت کے لیے جب کہ برساتی نالوں کی حفاظتی دیواروں کی تعمیر و مرمت کے لیے ایک ارب اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و بہتری کے لیے ایک ارب روپے درکار ہوں گے۔

میئر کراچی کے مطابق کے ایم سی 26 سڑکوں کی بحالی پر خود پانچ ارب53 کروڑ روپے خرچ کرے گی جب کہ واٹر کارپوریشن کو فراہمی و نکاسی آب کی درستگی کے لیے جو صرف ایک ارب روپے درکار ہوں گے وہ نہ ہونے کے برابر بلکہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہوں گے اور نالوں کی حفاظتی دیواروں کی تعمیر و مرمت کے لیے بھی ایک ارب روپے کی ضرورت ہوگی جس سے کچھ بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے۔

مگر فراہمی و نکاسی کے سب سے اہم مسئلے کے حل کے لیے کے ایم سی کوئی فنڈ نہیں دے گی کیونکہ یہ کام واٹر کارپوریشن کی ذمے داری ہے جس کے چیئرمین خود میئر کراچی ہیں اور میئر کے بقول واٹر کارپوریشن کی آمدنی پانچ ارب روپے ماہانہ ہونی چاہیے اور ہم نے 95 کروڑ ماہانہ کی آمدنی کو بڑھا کر دو ارب بیس کروڑ تک پہنچا دیا ہے جو اس سال جنوری میں بڑھی ہے۔

واضح رہے کہ واٹر کارپوریشن پہلے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ تھا جس میں سندھ کی حکومت 17 سالوں میں متعدد تبدیلیاں کر چکی ہے جو خود مختار مگر سندھ حکومت کے ماتحت اور کرپشن کا گڑھ رہا ہے اور سندھ حکومت نے اپنوں کو نوازنے کے لیے اس میں بڑی تعداد میں افسر اور کارکن بھرتی کرائے جن کی تنخواہیں آمدنی سے دی جاتی ہیں اور اب حکومت نے واٹر کارپوریشن میں میئر کراچی کو چیئرمین مقرر کیا تھا اور شہر میں سب سے زیادہ مسائل اور شکایات فراہمی و نکاسی آب کی چلی آ رہی ہیں۔ شہر کی اہم اور بڑی سڑکیں پانی ابلنے سے اس لیے ایک حد تک محفوظ ہیں کہ سٹی حکومت میں واٹر بورڈ سٹی ناظم کراچی کے ماتحت تھا اور یونین کونسلوں تک کے ذریعے فراہمی و نکاسی آب سے متعلق شکایات یوسی ناظم حل کرا دیا کرتے تھے۔

بڑی سڑکوں کی تعمیر سے قبل سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے وہاں نکاسی آب کا اہتمام کرایا تھا۔ سیوریج کا گندا پانی سڑکوں کا دشمن ہوتا تھا اور شہر کی سڑکوں کی تباہی کی بڑی وجہ سیوریج کا تباہ ہونا ہے جس کی پرانی لائنیں سالوں سے بوسیدہ ہو کر تباہ ہو چکی ہیں اور اندرون شہر کی چھوٹی بڑی سڑکیں اور گلیاں جو ٹاؤن کارپوریشنز کی ذمے داری میں ہیں وہاں عشروں سے گٹروں کا ابلنا اور راستوں کا گندے پانی سے زیر آب رہنا معمول ہے اور شہر کے تجارتی مراکز کے اطراف اور بازاروں تک کی سڑکیں آئے دن زیر آب آ جاتی ہیں جن پر فوری توجہ کم ہی دی جاتی ہے کیونکہ سیوریج کے عملے کی بھی کمی ہے۔

کراچی میں حال یہ ہے کہ نئی بنائی ہوئی سڑک ایک ماہ بعد ہی ترقیاتی کام کے نام پر کھود دی جاتی ہے۔ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی دونوں سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دے رہی ہیں مگر جن وجوہات کے باعث سڑکیں تباہی کا شکار ہوئی ہیں جب کہ کراچی کا تباہ شدہ نکاسی آب کا عشروں پرانا شکستہ و بوسیدہ نظام پر دونوں ہی کی کوئی توجہ ہے نہ ہی فراہمی و نکاسی آب کی بہتری کے لیے اربوں تو کیا کروڑوں روپے بھی نہیں رکھے گئے جب کہ کراچی میں پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی بہتری کے لیے کم ازکم اربوں روپے مختص کرنے کی آج اشد ضرورت ہے اور یہ تباہ شدہ فراہمی و نکاسی آب کا نظام ہی کراچی کی موجودہ حالت زار کا ذمے دار ہے مگر اب بھی اس پر توجہ نہیں ہے۔

دو سٹی حکومتوں میں سڑکوں کی تعمیر سے قبل سیوریج کے نظام پر توجہ دی گئی تھی۔ نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال کے دور میں سڑکوں کے درمیان بنے ہوئے سیوریج کے گٹروں کو ایک سائیڈ پر منتقل کیا گیا تھا اور بڑی سڑکیں اس طرح بنوائی گئی تھیں کہ ان پر گٹر ابلیں نہ بارش کا پانی جمع ہو اور سیوریج اور بارش کا پانی کھڑا رہنے یا بہنے سے ہی سڑکیں تباہ ہوتی ہیں۔

سٹی حکومتوں میں جو بڑی سڑکیں معیار کو مدنظر رکھ کر بنوائی گئی تھیں نہ ان پر گٹر ابلتے تھے نہ بارشوں میں وہ خراب ہوئیں جب کہ سندھ حکومت نے جو سڑکیں بنوائیں وہ ناقص تعمیرات سے جلد تباہی کا شکار ہوئیں فراہمی و نکاسی آب کا نظام زیر زمین ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا اور سڑکیں نظر آ کر کارکردگی دکھاتی ہیں اور کرپشن دونوں ہی میں زیادہ ہے اور پچیس فی صد رقم بھی اگر ایمانداری سے لگائی جائے تو کام کچھ بہتر ہو سکتا ہے مگر تعمیرات میں کمیشن سسٹم معیاری تعمیرات نہیں ہونے دیتا۔ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کو سڑکوں کی تعمیر سے پہلے نکاسی آب کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ سڑکیں جلد تباہ نہ ہوں اور شہریوں کا یہ سب سے اہم مسئلہ بھی حل ہو سکے جو سڑکوں سے زیادہ ضروری ہے۔

Load Next Story