مسئلہ کشمیر : چند بھولے بسرے حقائق

کشمیر ہو یا فلسطین دونوں مسائل کے حل کا مؤثر ترین طریقہ یہی ہے کیوں کہ اس کی بنیاد رائے عامہ کی حمایت ہے۔

farooq.adilbhuta@gmail.com

الحمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا نسبتاً نیا تعلیمی ادارہ ہے لیکن اس نے دارالحکومت کے علمی حلقوں میں بہت تھوڑے وقت شان دار پہچان بنائی ہے۔ اس کا کریڈٹ جہاں اس جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن کو جاتا ہے وہیں اس کی فیکلٹی لسانیات و ادبیات کو بھی جاتا ہے جس کی قیادت ڈاکٹر شیر علی کرتے ہیں۔ فیکلٹی لسانیات و ادبیات کی علمی اور تحقیقی سرگرمیاں قابل قدر ہیں جس کے طلبہ و طالبات نے تحقیق کے اہم شعبوں میں نمایاں کام کیا ہے۔ فیکلٹی ادبیات کا ایک اور کارنامہ قومی امور اور مباحث سے تعلق رکھتا ہے۔

قومی ایام پر مختلف پلیٹ فارموں پر تقریبات منعقد ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن الحمد یونیورسٹی کا اعزاز یہ ہے کہ اس کی نشستوں میں معمول سے ہٹ کر زیادہ گہرائی اور زیادہ سنجیدگی سے اظہار خیال کی روایت ہے جیسا اس بار یوم یک جہتی کشمیر پر ہوا۔ اس نشست کی صدارت ممتاز دانش ور پروفیسر جلیل عالی نے کی جب کہ ممتاز شاعرہ محترمہ عائشہ مسعود، ڈاکٹر صدف نقوی، محترمہ مہوش حسن اور ان سطور کے لکھنے والے نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اظہار خیال کیا۔

ان نشست کی خاص بات محترمہ مہوش حسن کی اس میں شرکت تھی جو قائد حریت سید علی گیلانی کی رشتے میں نواسی ہیں۔ ان کے علاوہ محترمہ عائشہ مسعود اور ڈاکٹر صدف نقوی نے اس موقع پر مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر کے مختلف پہلو اجاگر کیے۔ پروفیسر جلیل عالی نے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے مزاحمت کے تسلسل پر زور دیا اور کہا کہ عسکری دباؤ کے بغیر کام یابی ممکن نہیں۔ ان کے مؤقف کے بیشتر نکات اس روایت کی تائید میں تھے جس کے مظاہر گزشتہ پینتیس چالیس برس سے ہم دیکھتے آئے ہیں۔

الحمد یونیورسٹی کی نشستوں کا ایک پہلو مشکل اور ایک نہایت خوش گوار ہے۔ مشکل پہلو تو یہ ہے کہ ان میں شرکت روا روی میں نہیں ہوتی بلکہ تیاری کے ساتھ آنا پڑتا ہے۔ خوش گوار پہلو یہ ہے کہ شرکا اور سامعین کی سنجیدگی کے باوصف یہاں نازک اور پیچیدہ نکات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں جس پر سنجیدہ سوالات تو ہو سکتے ہیں لیکن ردعمل کی وہ صورت پیدا نہیں ہوتی جسے ٹرولنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سہولت سے فایدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اس موقع پر کچھ سنجیدہ سوالات اٹھائے جن پر سنجیدہ غور و فکر کے نتیجے میں پوری تحریک آزادی کشمیر کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے اور اب تک مقصد کے حصول میں پیش رفت کیوں نہ ہو سکی، ان وجوہات کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مسئلہ کشمیر کی تاریخ پرانی ہے جس کی نشان دہی علامہ اقبال نے یہ کہہ کر کی تھی  ؎

دہقان و کشت و جو و خیاباں فروختند

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

علامہ اقبال کا اشارہ 1846 کی اینگلو سکھ جنگ کی طرف ہے جس کے بعد 16 مارچ 1846 کو معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے صرف 75 ہزار نانک شاہی روپے کے عوض پورے کشمیر کو ڈوگرا خاندان کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا جس کا ایک مضحکہ خیز اور تکلیف دہ پہلو یہ تھا کشمیر کے ہر باشندے کی قیمت صرف تین روپے قرار پائی جس پر اقبال نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم فروخت کر دی گئی اور وہ بھی اتنی ارزاں قیمت پر۔ اہل کشمیر کی جدوجہد آزادی کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے جب کہ اس کے دوسرے مرحلے کی ابتدا تقسیم ہند سے ہوتی ہے۔

میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 1965 تک ہمیں اس معاملے میں بھرپور عالمی حمایت حاصل رہی ہے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ حمایت میں کمی ہوتی گئی جو 1999 اور اس کے بعد انتہائی کم ریکارڈ کی گئی۔ مئی 2025 کے بعد اب اس میں پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حمایت، مخالفت اور لاتعلقی کے گراف کا براہ راست تعلق کشمیر کے حوالے سے چند اہم واقعات سے منسلک ہے۔ ان واقعات میں آپریشن جبرالٹر، کارگل آپریشن اور پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن شامل ہیں۔ یہ واقعات اپنی وضاحت آپ ہیں، ان کی نوعیت جان کر نہایت آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے آس پاس پاکستان کی حمایت اور مخالفت بڑھنے اور سکڑنے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں ایک بات اکثر کہی جاتی ہے کہ کارگل کے معرکے میں مجاہدین کارنامہ انجام دے چکے تھے۔ اس موقع پر باضابطہ طور پر حتمی وار کر کے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جا سکتا تھا لیکن ایسی بات کہنے والے دو حقیقتیں بھول جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو عالمی نظام وجود میں آیا، اس میں جنگ کے ذریعے کسی علاقے پر قبضہ کر کے اسے ملک کا حصہ بنانے کی گنجائش نہیں تھی۔

دوسری حقیقت خود حصول پاکستان کا معجزہ ہے۔ یہ معجزہ سیاسی عمل کے ذریعے تو ممکن ہو گیا لیکن نواب سراج الدولہ سے لے کر 1857 کی جنگ آزادی تک جتنی عسکری مزاحمتیں بھی ہوئیں، نہ صرف یہ کہ ناکامی سے دوچار ہوئیں بلکہ ان کی وجہ سے منزل دور بھی ہوئی اور احساس شکست نے برصغیر کے مسلمانوں کی ہمت بھی توڑ کر رکھ دی۔ کام یابی کی ابتدا 1930 کے خطبہ الہ آباد سے ہوتی ہے جب مسلمانوں نے سیاسی راستہ اختیار کیا اور صرف سترہ برس کی مدت میں آزادی کی منزل حاصل کر لی۔ اس کے بعد قیام پاکستان آزادی کے حصول کا ایک ایسا ماڈل بن گیا جس کی پیروی بیسویں میں مختلف اقوام نے کی۔ کم وسائل اور دشمن کے مقابلے میں انتہائی محدود طاقت کے ساتھ کام یابی کا نادر تجربہ تھا جس کا کریڈٹ اقبال کو جاتا ہے جنھوں نے جدوجہد کے معنی ہی بدل دیے اور دنیا کو جنگ و جدل کے عہد سے نکال کر پر امن سیاسی جدوجہد کے زمانے میں داخل کر دیا۔

 کشمیر ہو یا فلسطین دونوں مسائل کے حل کا مؤثر ترین طریقہ یہی ہے کیوں کہ اس کی بنیاد رائے عامہ کی حمایت ہے۔ قائد اعظم نے جدا گانہ انتخابات کا راستہ اختیار کر کے مسلم برصغیر کی غیر مسلم اکثریتی آبادی کے باوجود مسلمانوں کے ووٹ کو بامعنی طاقت بنا دیا۔ کشمیر اور فلسطین میں تو براہ راست مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ حق خود ارادیت کے مسئلے کو انسانی حقوق کے مسئلے سے جوڑ کر عالمی رائے عامہ کو مخاطب کیا جائے۔ موجودہ عالمی حالات میں یہ طریقہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، عسکری مزاحمت کے نتائج ہم دیکھ چکے ہیں، اب یہ آزمودہ لیکن بھولے بسرے طریقے کو بھی آزما کر دیکھ لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے سر کا گوتم

بے سر کا گوتم محمودہ غازیہ کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ محمودہ غازیہ اردو ادب کی ملنگ ہیں۔ ان کے جی میں آتا ہے تو افسانہ لکھتی ہیں، جی میں آتا ہے تو شاعری کرتی ہیں۔ خود ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ وہ خود کو کسی فارم کی پابند نہیں سمجھتیں، دل میں جو خیال آتا ہے، قرطاس پر منتقل کر دیتی ہیں۔ یہی تو ادب ہے۔ ' بے سر کا گوتم' کے افسانے بھی ایسے ہی ہیں۔

فارم میں لکھے گئے افسانے کا پلاٹ ہوتا ہے، لگا بندھا اسلوب ہوتا ہے لیکن ان افسانوں کی فضا کسی تند رو ندی میں بہنے والے خیال جیسی ہے جو کبھی افسانہ بن جاتا ہے اور کبھی ناول۔ خیال کی ندی میں جب کوئی لہر اٹھتی ہے، آندھی چلنے لگتی ہے، یوں اچھا خاصا چلتا پھرتا، اٹھتا بیٹھتا، باتیں کرتا ہوا انسان افسانہ بن جاتا ہے، ایک جیتا جاگتا افسانہ۔ محمودہ غازیہ کے اس مجموعے میں بھی ایسے ہی افسانے ہیں جو پڑھنے والے کی آنکھوں کے راستے دل میں اتر جاتے ہیں اور انسان کے رستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ دیتے ہیں۔ اس ضمن میں اس مجموعے کا پہلا افسانہ ' کوئل کا گھونسلا تو لکھ کر جیسے افسانہ نگار نے قلم توڑ دیا ہے۔ ان کے افسانے دکھی دل کی تنہائی، دنیا، مشین اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیش رفت کی انسانی شخصیت اور مزاج پر اثرات کے علاوہ مادیت پرستی کی زہر ناکی کے گرد گھومتے ہیں۔ ' بے سر کا گوتم' کی اشاعت پر محمودہ غازیہ کو دلی مبارک باد۔  

Load Next Story